اڈانی کے مفاد میں مودی نے امریکہ کیساتھ تجارتی معاہدہ کیا :راہول

   

نئی دہلی، 15 مئی (یو این آئی) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کے معاملے کو اٹھاتے ہوئے ایک بار پھر الزام لگایا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ معاہدہ اپنے صنعت کار دوست اڈانی کو بچانے کے لیے کیا ہے ۔ راہول گاندھی نے جمعہ کو سوشل میڈیا ایکس پر تجارتی معاہدے کو صنعت کار اڈانی کے مفاد میں کیا گیا فیصلہ قرار دیا اور مودی پر سمجھوتہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ کمپرومائزڈ پی ایم نے تجارتی معاہدہ نہیں، اڈانی کی رہائی کا سودا کیا ہے ۔ اسی دوران کانگریس کے محکمہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے کہا کہ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ وزیر اعظم نے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان اس انتہائی مایوس کن اور یکطرفہ ٹریڈ ڈیل کو کیوں قبول کیا، جو حقیقت میں امریکہ کے حق میں ایک طرفہ سودا تھا۔ یہ بھی صاف ہو گیا ہے کہ انہوں نے 10 مئی 2025 کو صدر ٹرمپ کی دھمکیوں کے آگے جھکتے ہوئے ، قومی مفاد کے بجائے ان کے دباؤ میں آپریشن سندور کو اچانک کیوں روک دیا تھا۔
” انہوں نے لکھا، “رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ اب صنعت کار اڈانی کے خلاف کرپشن سے وابستہ تمام الزامات واپس لینے کی تیاری میں ہے ۔ وزیر اعظم آخر اور کتنا سمجھوتہ کریں گے ۔”