اگر یوکرین پر روس کا نیوکلیر حملہ ہوتو کیا ہو گا؟

   

لندن: روسی صدر ولادیمیر پوٹن متعدد مرتبہ نیوکلیر ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی دے چکے ہیں جب کہ ایسے میں مغربی ممالک میں یہ بحث جاری ہے کہ ایسی صورت میں کیا ردعمل دکھایا جائے گا۔روسی صدر ولادمیر پوٹن نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ اگر روس کی علاقائی خودمختاری خطرے میں پڑی تو وہ نیوکلیر ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ جو ہمیں نیوکلیر ہتھیاروں کے ذریعے بلیک میل کرنے کی کوشش میں ہیں، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ہوا ان کی سمت بھی چل سکتی ہے اور یہ کوئی مذاق نہیں ہے۔تاہم ماہرین یہ ماننے کو تیار نہیں کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نیوکلیر ہتھیاروں کے استعمال میں پہل کر سکتے ہیں۔ 1945 ء میں جاپان پر امریکی نیوکلیر حملے کے بعد سے اب تک نیوکلیر ہتھیار کبھی استعمال نہیں کیے گئے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی نے متعدد ماہرین سے دریافت کیا کہ اگر روس کی جانب سے نیوکلیر حملہ کیا جاتا ہے، تو ایسی صورت میں کیسے نتائج نکل سکتے ہیں۔مبصرین کے مطابق ماسکو حکومتی ایسی صورت میں ایک یا متعدد ’ٹیکٹیکل‘ نیوکلیر ہتھیار یعنی چھوٹے ایٹم بم کا استعمال کر سکتی ہے۔یہ بات اہم ہے کہ صفر اعشاریہ تین کلوٹن سے سو کلوٹن دھماکا خیز مواد جتنی طاقت والے نیوکلیر بموں کو ٹیکٹیکل بم کہا جاتا ہے۔امریکہ کے پاس موجود سب سے بڑا نیوکلیر ہتھیار ایک اعشاریہ دو میگاٹن ہے جب کہ روس نے 1961 میں 58 میگاٹن کے نیوکلیر ہتھیاروں کا تجربہ کیا تھا۔ٹیکٹیکل نیوکلیر ہتھیار میدان جنگ میں محدود پیمانے کی تباہی کا باعث بنتے ہیں جب کہ اسٹریٹیجک ہتھیار بڑی جنگوں میں حتمی کارروائی کے لیے تیار کیا جاتے ہیں۔ یہ بات تاہم اپنی جگہ ہے کہ ‘چھوٹے‘ یا محدود‘ سے مراد کیا لی جاتی ہے۔امریکہ نے 1945 میں ہیروشیما پر جو ایٹم بم گرایا تھا، وہ پندرہ کلوٹن کا تھا، تاہم اس کے تباہ کن اثرات غیرمعمولی تھے۔