اہم پارٹیوں کے سینئر قائدین کو اپنے جگر گوشوں کے سیاسی مستقبل کی فکر لاحق

   

بیٹا، بیٹی،داماد اور بہو کیلئے ٹکٹ کی کوششیں۔ دتاتریہ، سرینواس یادو، ملا ریڈی، جانا ریڈی، سری ہری، پوچارم سرگرم

حیدرآباد۔/8 جنوری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی انتخابات جیسے جیسے قریب آرہے ہیں اہم سیاسی پارٹیوں کے سینئر قائدین نے اپنے جگرگوشوں کے سیاسی مستقبل کی فکر شروع کردی ہے۔ بی آر ایس، کانگریس اور بی جے پی کے سینئر قائدین اپنے بیٹے، بیٹیوں، داماد اورقریبی رشتہ داروں کیلئے انتخابی حلقوں کی تلاش میں ہیں تاکہ آئندہ انتخابات میں ان کے جانشین بھی قانون ساز اسمبلی میں دکھائی دیں۔ بعض سینئر قائدین نے اپنی جگہ اپنے بچوں کو ٹکٹ دینے کی مہم ابھی سے تیز کردی ہے۔ ریاستی وزیر انیمل ہسبنڈری ٹی سرینواس یادو کے فرزند ٹی سائی کرن یادو نے 2019 لوک سبھا انتخابات میں سکندرآباد لوک سبھا حلقہ سے مقابلہ کیا تھا لیکن شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ سرینواس یادو اس مرتبہ اپنے بیٹے کو اسمبلی سے مقابلہ کے خواہاں ہیں۔ ریاستی وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی کے فرزند پی کارتک ریڈی چیوڑلہ اسمبلی حلقہ سے مقابلہ کی تیاری کررہے ہیں۔ وزیر لیبر سی ایچ ملا ریڈی کے داماد ایم راج شیکھر ریڈی نے 2019 لوک سبھا الیکشن میں ملکاجگری سے مقابلہ کیا تھا لیکن قسمت نے یاوری نہیں کی۔ اس مرتبہ ملا ریڈی اپنے داماد کو دوبارہ لوک سبھا حلقہ سے مقابلہ کی تیاری میں ہیں۔ وزیر انڈومنٹ اندرا کرن ریڈی کی بہو نرمل اسمبلی حلقہ میں مختلف سماجی سرگرمیوں کے ذریعہ کافی مصروف ہیں۔ اندرا کرن ریڈی اپنی بہو کو اس مرتبہ انتخابی میدان میں اُتارنا چاہتے ہیں۔ اسپیکر اسمبلی پوچارم سرینواس ریڈی کے فرزند بھاسکر ریڈی بانسواڑہ اسمبلی حلقہ سے مقابلہ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ فی الوقت ڈسٹرکٹ کوآپریٹیو سنٹرل بینک نظام آباد کے صدرنشین ہیں۔ اسی ضلع میں نظام آباد ( رورل ) کے رکن اسمبلی باجی ریڈی گوردھن کے فرزند پرمود بھی بانسواڑہ اسمبلی حلقہ سے ٹکٹ کے دعویدار ہیں۔ گوردھن جو آر ٹی سی کے صدرنشین ہیں اپنے فرزند کی سماجی سرگرمیوں کے ذریعہ حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔ عادل آباد ضلع میں سابق وزیر جوگو رامنا اپنے چھوٹے فرزند مہیندر کو اپنے جانشین کے طور پر انتخابی میدان میں اُتارنا چاہتے ہیں۔ جوگو رامنا کے بڑے فرزند عادل آباد میونسپل چیرمین کے عہدہ پر فائز ہیں۔ کریم نگر ضلع میں کورٹلہ کے رکن اسمبلی ودیا ساگر راؤ کے فرزند ڈاکٹر سنجے اسمبلی حلقہ میں مسلسل دورے کررہے ہیں اور وہ اسمبلی ٹکٹ کیلئے دوڑ دھوپ کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ رکن اسمبلی نے پارٹی صدر کے سی آر سے درخواست کی ہے کہ ان کی جگہ فرزند کو ٹکٹ دیں۔ ورنگل سے تعلق رکھنے والے سابق ڈپٹی چیف منسٹر کے سری ہری اپنی دختر کاویہ کو ٹکٹ دلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ نلگنڈہ میں صدرنشین قانون ساز کونسل جی سکھیندر ریڈی کے فرزند انتخابی میدان میں اُترنے کیلئے بے چین ہیں۔ اسی ضلع میں سابق وزیر اوما مادھو ریڈی کے فرزند بھی بھونگیر سے ٹکٹ کے دعویدار ہیں۔ کانگریس کے سینئر لیڈر کے جانا ریڈی کے فرزند رگھویر ریڈی نے ناگرجنا ساگر اسمبلی حلقہ پر دعویداری پیش کی ہے۔ سابق وزیر کونڈہ سریکھا کی دختر بھوپال پلی یا پرکال اسمبلی حلقوں میں کسی ایک سے ٹکٹ کی خواہاں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ملگ کی کانگریس رکن اسمبلی سیتکا نے اپنے فرزند سوریا کو پناپاکا اسمبلی حلقہ سے امیدوار بنانے کی تیاری کرلی ہے۔ کانگریس کے رکن اسمبلی جگا ریڈی اور سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامودھر راج نرسمہا اپنی اپنی دختران کو اپنے جانشین کے طور پر سیاست میں متعارف کرانے کیلئے بے چین ہیں۔ بی جے پی کی قومی نائب صدر ڈی کے ارونا نے اپنی دختر کو گدوال یا محبوب نگر اسمبلی حلقوں سے میدان میں اُتارنے کی تیاری کرلی ہے۔ سابق رکن پارلیمنٹ جتیندر ریڈی کے فرزند شاد نگر اسمبلی حلقہ پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ گورنر ہریانہ بنڈارو دتاتریہ کی دختر وجئے لکشمی مشیرآباد اسمبلی حلقہ سے مقابلہ کی خواہاں ہیں اور دتاتریہ نے بتایا جاتا ہے کہ پارٹی ہائی کمان سے درخواست کی ہے کہ ان کی دختر کو سیاست میں قدم رکھنے کا موقع دیا جائے۔ر