تہران: ایران نے فیفا کی جانب سے مسلسل دباؤ کے بعد آخرکار مینس فٹبال میچوں میں خاتون شائقین کے محدود تعداد میں داخلے کی اجازت دے دی ہے۔ اس پر فٹبال کی مداح لڑکیاں اور خواتین کافی خوش ہیں اور انھوں نے اسٹیڈیم کا رُخ کیا ہے۔ وہ نیلی اور سفید ٹوپیاں پہنتی ہیں، اپنے کلب ’’استقلال تہران‘‘ کا جھنڈا اٹھائے نظر آتی ہیں اور کچھ نے تو اپنے گالوں پر اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کا نمبر پینٹ کر رکھا ہے۔ ’’استقلال تہران‘‘ اور ’’مس کرمان‘‘ کے درمیان لیگ کا کھیل شروع ہونے سے پہلے ہی اسٹیڈیم کے سامنے موجود خاتون شائقین بڑے اچھے موڈ میں نظر آ رہی تھیں۔ 40 سال میں پہلی بار یہ ممکن ہوا ہے کہ خواتین کو فٹبال لیگ کے میچوں میں شرکت کی اجازت ملی ہے۔ ایرانی وزارت کھیل کے ترجمان نے قبل ازیں اعلان کیا تھا کہ خواتین کیلئے لگ بھگ 28,000 ٹکٹیں دستیاب ہوں گی۔ صحر خدایاری کو بھی فٹبال سے بے حد الفت تھی۔ 2019 ء میں وہ 29 سال کی تھی، تب انہوں نے ایک لمبا کوٹ پہن کر نیلی ویگ لگا کر ایک مرد فٹبال فین کا روپ دھارا اور تہران کے ایک فٹبال اسٹیڈیم میں داخل ہو گئیں۔ اُن کے اس ’’غیر اسلامی حلیہ‘‘ کی وجہ سے انہیں گرفتار کرنے کے بعد تین دن کیلئے جیل بھیج دیا گیاتھا۔ 1979 ء میں ایران میں برسر اقتدار آنے والے کٹرپسندوں کی حکومت کے نزدیک نیم برہنہ مردوں کو دیکھنا گناہ کے زمرے میں آتا ہے۔ صحر پر ’’عفت یا پاک دامنی کے قانون کی خلاف ورزی، غیر اخلاقی رویے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی توہین‘‘ کا الزام عائد کیا گیاتھا۔ تین دن بعد صحر کو رہائی ملی۔ لیکن اُس نے تہران کی انقلابی عدالت کے سامنے خود پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا لی۔ راہگیروں نے آگ بجھانے کی کوشش کی لیکن شدید جھلس جانے کے باعث وہ جانبر نہ ہوسکی۔ صحر کی تدفین اُس کی جائے پیدائش ْقم شہرکے باہر اُس کے اہل خانہ کی عدم موجودگی میں کی گئی۔ صحر خدایاری کی ہولناک کہانی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور تب ہی سے فٹبال کلب ’’استقلال تہران‘‘ کی علامت ’’بلیو گرل‘‘ بن گئی۔