ایرانی صدر نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کو’بے معنی‘ قرار دیا: سرکاری میڈیا

   

تہران۔ 6 اکٹوبر (ایجنسیز) سرکاری میڈیا کے مطابق، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پیر کے روز کہا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات ”بے معنی” ہیں اور ان کا نتیجہ صرف نئے حملوں کی صورت میں نکلا ہے، جب کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کی سمت میں مہینوں سے کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی ہے۔سرکاری نیوز ایجنسی ‘ارنا’ (آئی آر این اے) کے مطابق، صدر پزشکیان نے کہا کہ ”اب تک، وہ مذاکرات کے بعد ہم پر تین بار حملہ کر چکے ہیں، اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ مذاکرات نہیں چاہتے، بلکہ ان کا مقصد اسلامی جمہوریہ ایران کا تختہ الٹنا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ”ایسے دشمن کے ساتھ مذاکرات بے معنی ہیں جو ہر روز قتل، پابندیوں، دباؤ اور دھمکیوں کا سہارا لیتا ہے اور اپنے وعدوں کو توڑتا ہے۔”قابل ذکر ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی اس جنگ کا آغاز فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل نے موجودہ ایرانی حکومت کو ختم کرنے کے عزم کے ساتھ کیا تھا، حالانکہ اس وقت واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جاری تھے۔جنگ میں شامل فریقین نے جون میں ایک مفاہمت کی یادداشت پر اتفاق کیا جس میں تنازع کے مستقل حل کیلئے ایک فریم ورک طے کیا گیا تھا، لیکن آبنائے ہرمز میں جہازرانی پر اختلافات اور حملوں کے باعث امریکہ نے فوجی کارروائیوں کا دوبارہ آغاز کر دیا۔

ایران کو روس کی جانب سے
1 ارب ڈالر قرض دینے کا فیصلہ
تہران۔ 6 اکٹوبر (ایجنسیز) ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ روس نے ایران کو 1 ارب ڈالر کا قرض فراہم کرنے کی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی ہے۔ایران کی نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی کا کہنا ہیکہ ادائیگی کے عمل کو حتمی شکل دیدی گئی ہے۔ تہران کی جانب سے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات فراہم کرنے کے بعد یہ رقم منتقلی کیلئے تیار ہے۔تاہم ایرانی حکومتی اداروں کے درمیان اس بات پر اختلاف رائے ہے کہ رقم کو کس طرح خرچ کیا جائے۔فارس کے مطابق، قرض کی پہلی بار جون میں اطلاع دی گئی تھی اور اسے ایران کیلئے 20 ارب ڈالر کے روسی قرضے کی پہلی قسط کے طور پر بیان کیا گیا تھا۔