ایرانی عوام کا ٹرمپ سے بات چیت کیلئے سخت موقف

   

موقع ضائع نہ کریں، اخبارات کے اداریوں میں بھی نومنتخبہ صدر کے ساتھ مذاکرات پر زور

تہران: گذشتہ دنوں کے دوران میں ایران یہ باور کرا چکا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے منتخب ہونے سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں زیادہ تبدیلی نہیں آئے گی۔ البتہ بعض ایرانی عہدیداران نے جن میں صدر مسعود پزشکیان کے نائب محمد جواد ظریف سرفہرست ہیں، ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ “سابقہ پالیسیاں اختیار نہ کریں” جن کو ظریف نے غلط قرار دیا۔گذشتہ ہفتے کے دوران میں ایران میں کئی سابق ذمہ داران، ناقدین اور اخباری اداریوں کی جانب سے حکومت سے علانیہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ معاملہ کرے۔اصلاح پسندوں کے مرکزی روزنامے “شرق” نے اپنے اداریے میں کہا ہے کہ صدر پزشکیان کو ماضی کی غلطیوں سے اجتناب کرنا ہو گا اور ایک عملی اور کثیر جہتی پالیسی اپنانا ہو گی۔ایسا لگتا ہے کہ پزشکیان کی حکومت میں بہت سے لوگ اس موقف پر آمادہ ہیں جیسا کہ پانچ ایرانی عہدے داران اس کی تصدیق کر چکے ہیں۔مذکورہ حلقوں کے نزدیک ٹرمپ ان سمجھوتوں کو کرنا پسند کرتے ہیں جن میں دوسرے ناکام ہو چکے ہیں۔ ری پبلکن پارٹی میں ان کا اثر و رسوخ کسی بھی ممکنہ معاہدے کو مزید قوت بخش سکتا ہے۔ اس سے امریکہ کے ساتھ مستقل معاہدہ کا موقع میسر آ سکتا ہے۔ یہ بات امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بتائی۔ ان حلقوں کے مطابق منتخب امریکی صدر کی جانب سے اعلان کردہ خارجہ پالیسی کے کئی مقاصد، جن میں غزہ، لبنان اور یوکرین کی جنگوں کا خاتمہ شامل ہے، ایران کیلئے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔ بالخصوص یہ تل ابیب اور تہران کے درمیان وسیع تر جنگ سے گریز کرتے ہوئے غزہ اور لبنان کی جنگیں ختم کرنے میں معاون ہو سکتا ہے۔ اسی طرح یوکرین جنگ ختم ہونے سے ایران پر روس کو ہتھیار فراہم کرنے سے متعلق دباؤ میں کمی آ سکتی ہے۔ ادھر ایک اہم سیاست دان اور حکومت کے ایک سابق سیاسی مشیر حامد ابو طالبی نے ایرانی صدر کو بھیجے گئے ایک کھلے خط میں زور دیا ہیکہ ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں تبدیلی کا یہ تاریخی موقع ضائع نہ کیا جائے۔
طالبی نے پزشکیان کو نصیحت کی ہے کہ وہ انتخابات جیتنے پر ٹرمپ کو مبارک باد پیش کریں اور ایک نئی عملی اور امنگوں کی حامل پالیسی اختیار کریں۔دوسری جانب ایران کے سابق نائب صدر محمد علی ابطحی نے صدر پزشکیان کو نصیحت کی ہے کہ ٹرمپ کے خطرے کو ایک مثبت موقع اور سرگرم سفارت کاری کے آغاز میں تبدیل کر دیں۔تاہم اگر ایرانی صدر اپنے امریکی ہم منصب سے مذاکرات کا ارادہ کر بھی لیں تو انھیں پہلے رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای سے گرین سگنل حاصل کرنا ہو گا کیونکہ ملک کی خارجہ پالیسی کا تعین خامنہ ای کرتے ہیں۔بالخصوص جب کہ کئی قدامت پسند جن میں پاسداران انقلاب کے بعض عناصر بھی ہیں، ٹرمپ کے ساتھ کسی بھی معاملے کے مخالف ہیں۔
یہ موقف اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔یاد رہے کہ چند ہفتوں قبل امریکی وزارت انصاف یہ اعلان کر چکی ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب نے ٹرمپ کی انتخابی مہم کے خصوصی کمپیوٹروں کو ہیک کیا اور انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش میں انٹرنیٹ پر گمراہ کن معلومات پھیلائیں۔ اسی طرح گذشتہ جمعے کو نیویارک میں فیڈرل پراسیکیوٹروں نے ٹرمپ کو ہلاک کرنے کی ایرانی کوشش کا انکشاف کیا تھا۔