ایران جنگ سے ڈونالڈ ٹرمپ کو کچھ نہیں ملا

   

ڈاکٹر مقتدر خان ، امریکہ
خلیج میں ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ نے جو جنگ چھیڑی تھی وہ جنگ اب کہاں تک پہنچی یہ جاننا بہت ضروری ہے کیونکہ یہ جنگ صرف خط خلیج کو ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ ہم پہلے تو دیکھیں گے کہ یہ جنگ کہاں تک پہنچی اور کیا ہو رہا ہے؟ مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ جنگ میں بھی شکست کھا رہے ہیں اور مذاکرات میں بھی انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور وہ بھی بار بار۔ تقریباً 8 مرتبہ ایسے دعوے کئے گئے کہ جنگ رک گئی ہے جنگ بندی ہوگئی ہے۔ مذاکرات شروع ہوگئے ہیں پھر اس کے بعد جنگ شروع ہوگئی ۔ مطلب ڈونالڈ ٹرمپ کو جو چیز سفارت کاری سے حاصل نہیں ہو رہی ہے اسے وہ تشدد کے ذریعہ حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور جب تشدد اور جنگ کے ذریعہ وہ چیز ان کو حاصل نہیں ہوتی اور اس کے بعد ایران کی جو جوابی کارروائی ہوتی ہے جس سے امریکہ کے جو حلیف ممالک ہیں ان کے حامی ہیں ان کے شراکت دار ہیں اس جنگ میں سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت جہاں امریکہ کے سارے فوجی اڈے ہیں جب ان سب پر حملہ ہوتا ہے تو ان ملکوں کی معیشت یا اقتصادی حالت کو نقصان ہوتا ہے۔ ان کے انفرااسٹرکچر یا بنیادی سہولتوں پر حملہ ہوتا ہے اور بھی ڈر ہیکہ کہیں آئیل انرجی انفرااسٹرکچر جن پر ان م لکوں کا زیادہ تر انحصار ہے تباہ نہ ہو جائے انہیں ٹرمپ خطرہ میں ڈالتے ہیں تو پھر یہ جنگ رک جاتی ہے تو وہ نہ تو فوجی طاقت کے ذریعہ اپنے مقاصد حاصل کر پا رہے ہیں نہ وہ سفارتی سطح پر اپنے مقاصد کو حاصل کرپا رہے ہیں۔ ایک طرح سے ایران کی تباہی ضرور ہورہی ہے اب تک ایران پر 15 تا 20 ہزار حملے ہوچکے ہیں اور یہ حملے اسرائیل و امریکہ نے کئے ہیں۔ اب یہ خبر آرہی ہے کہ سعودی عرب نے حملہ کے لئے عراق کے قریبی علاقوں کا انتخاب کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے بھی ایران پر راست حملہ کیا ہے۔ یقینا ایران کا اربوں ڈالرس کا نقصان ہو رہا ہے لیکن ان کی مزاحمت پر کوئی فرق نہیں پڑا۔ نہ حکومت کمزور ہوئی ہے اور عوام بھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑ رہے ہیں اور وہ ہمت بھی نہیں ہار رہے ہیں اور ڈونالڈ ٹرمپ بار بار دعوے کررہے ہیں کہ ہم نے ایران کی بحری طاقت تباہ کردی ہے۔ بالسٹک میزائلس تباہ کردیئے ہیں۔ ان کی جوہری سہولیات کا وجود مٹا دیا یا پھر تہذیب ختم کردیں گے وغیرہ وغیرہ۔ اس قدر بڑے امریکی دعوؤں کے باوجود امریکہ کے ہر حملہ کا ایران کے پاس جواب ہے اور ایران کا جواب پھیل رہا ہے۔ نہ صرف وہ خلیج میں امریکی اڈوں پر حملہ کررہا ہے بلکہ اس نے اردن میں بے شمار امریکی سپاہیوں کو ہلاک کردیا۔ کئی امریکی جہاز تباہ کردیئے۔ امریکہ کے راڈار سسٹم، فوجی اڈہ یہاں تک کہ مصر میں بھی امریکی اڈوں پر حملے ہونے لگے ہیں اور جو سب سے بڑی امریکہ کی شکست ہے وہ یہ ہے کہ جنگ سے پہلے آبنائے ہرمز کھلا تھا جب سے جنگ شروع ہوئی ہے یہ بند ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ آخر میں جب یہ جنگ اختتام کو پہنچے گی تو ایران کا ہرمز پر اس جنگ سے پہلے جتنا اثر تھا اس سے زیادہ اثر رہے گا چاہے وہ ٹول پوری طرح وصول کرے یا نہ کرے لیکن آبنائے ہرمز پر اس کا زیادہ سے زیادہ کنٹرول ہوگا۔ یہ امریکہ کے لئے بہت بڑی فوجی شکست ہو گئی ہے۔ حیدرآباد میں ایک محاورہ مشہور ہے ’’کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے‘‘ (اس کا مطلب یہ ہے کہ موسم گرما میں حیدرآباد کے رسٹورنٹس اپنے ٹیبلس پر پانی رکھتے تھے تو لوگ ہوٹلس میں جاتے گرمی کی وجہ سے شدت پیاس محسوس کرکے پانی پی لیتے تھے کچھ آرڈر وغیرہ نہیں کرتے تھے لیکن اس میں بھی اگر آپ گلاس پھوڑ دیا تو ویٹر چیخ کر کہتا ہے کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے) بہرحال ٹرمپ کو کچھ حاصل نہیں ہوا بلکہ آپ نے آبنائے ہرمز ایران کے حوالے کردیا اور اس دن سے ٹرمپ گھبراہٹ کا شکار ہوگئے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نتین یاہو کی باتوں میں آتو گئے اور جنگ شروع کردی پہلے ہی 100 ارب ڈالرس خرچ ہوگئے وہ ملک میں کئی چیزیں کرسکتے تھے۔ امریکی عوام کی خاطر لیکن نہیں کیا الٹا وہ میڈی کیر کاٹ رہے ہیں۔ نگہداشت صحت (ہیلت کیر) میں کٹوتی کررہے ہیں مہنگائی بڑھا دی ہے جب سے یہ جنگ شروع ہوئی ہے۔ میں جس ریاست میں رہتا ہوں وہاں کی ایک فیملی نے 3 ہزار سے لے کر 4 ہزار سے زیادہ پیسہ خرچ کیا تو ذرا سوچئے کہ ایک ملین کا اسٹیٹ ہے تو تین چار کروڑ تو ہم نے خرچ کردیئے۔ صرف اور صرف تیل کی مہنگائی کی وجہ سے آپ کے سامنے میں نے ایک چھوٹی سی مثال پیش کی۔ سارے امریکہ کا کیا حال ہوگا؟ آپ دیکھیں گے کہ امریکہ میں ساڑھے چھ ڈالر میں فروخت ہو رہا ہے تیل خاص طور پر ان ریاستوں میں جہاں ٹیکس زیادہ ہیں ہمارے پاس چار ڈالرس سے زائد میں تیل فروخت ہو رہا ہے جنگ سے پہلے 3 ڈالر سے کم تھا۔ گیس بھی مہنگی ہوگئی ہے۔ جنگ کا اثر ہر چیز پر مرتب ہوتا ہے۔ ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔ دنیا کے سارے ماہرین اقتصادیات پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر آج بھی جنگ رک جاتی ہے تو مثال کے طور پر ہندوستان کے قومی مجموعی پیداوار کی شرح نمو ایک فیصد سے دو فیصد تککم ہو جائے گی۔ سال بھر کے لئے صرف ہندوستانی معیشت پر ہی اثر نہیں ہوگا بلکہ عالمی معیشت کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا۔ یوروپ پر بھی اثر ہوگا، آفریقہ پر بھی اثر ہوگا ہر جگہ اس کا اثر ہوگا۔ بہرحال اس جنگ سے کچھ حاصل نہیں ہوا۔ دیکھئے جنگ سے پہلے کیا صورتحال تھی۔ ایران کے پاس بالسٹک میزائیلز تھے، ایران کے پاس حوثی اور حزب اللہ تھے۔ ایران کے پاس ایک ہزار پاؤنڈ یعنی تقریباً 450 کیلو افزودہ یورانیم تھا اب بھی وہ ساری چیزیں جیسی کی ویسی ہیں اب تو حوثی بھی جنگ شروع کرچکے ہیں۔ باب المندب کو بلاک کردیا ہے۔ یہ پہلے سب کھلے تھے۔ امریکہ اتنی بڑی بحریہ کے باوجود اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کا تھا کہ اب وہ ایران کو تباہ و برباد کریں گے اور ایرانی ان کے پاس روتے ہوئے بھاگ کر آئیں گے۔ یہ اعلان کیا اور پھر اتوار کو کہا کہ نہیں ہم جنگ روک رہے ہیں کیونکہ ایرانیوں نے مجھ سے کہا کہ بھئی پلیز پلیز آپ اس طرح کے حملے نہ کریں ہم آپ سے مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ پیر سے مذاکرات شروع ہونے والے ہیں۔ اس پر ایرانیوں نے فوری جواب دیا کہ امریکہ سے بات چیت کرنے ہمارا کوئی منصوبہ نہیں ہے، اگر امریکہ ہم پر حملہ کرے گا تو ہم بھی جوابی کارروائی کریں گے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ایم بی ایس جو سعودی عرب کے ولیعہد ہیں انہیں ایران نے ایک فہرست دی ہے جس میں بتایا گیا کہ امریکہ اگر ہمارے انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنائے گا تو ہم سعودی عرب میں فلاں فلاں مقامات کو نشانہ بنائیں گے جس پر ایم بی ایس نے ڈونالڈ ٹرمپ سے کہا کہ آپ کے حملوں سے جو کچھ حاصل نہیں ہو رہا ہے ایران کے حملہ سے ہماری معیشت ہماری تیل کی پیداوار ٹھپ ہوسکتی ہے۔ یاد رکھئے تباہ شدہ انفرااسٹرکچر کی دوبارہ تعمیر میں برسوں لگ جاتے ہیں۔ پہلے سے قطر، بحرین، کویت اور دیگر ملکوں کی معیشت تباہ ہوگئی ہے۔ لوگ ابھی سوال کرتے ہیں کہ کیا جو دوبئی جنگ سے پہلے تھا وہ اس حالت میں واپس ہو پائے گا۔ تب ڈونالڈ ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ڈونالڈ ٹرمپ جنگ لڑسکتے ہیں یا سفارت کاری کے ذریعہ اپنے مقاصد حاصل کرسکتے ہیں۔ ٹرمپ ایک ایسے نکتہ پر جانا چاہتے ہیں جہاں سے وہ جنگ سے باہر نکل سکیں اور وہ نکتہ ایسا ہے جہاں سے ایران شرائط پر راضی ہو جائے گا اور ڈونالڈ ٹرمپ امریکہ میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ میں جنگ جیت گیا ہوں مجھے نوبل پرائز دیں، مجھے وہ ایوارڈ دیں ہم نے یہ کردیا، ہم نے وہ تباہ کردیا۔ وہ امید کرتے ہیں کہ اس ملک کے جو سب سے کم پڑھے لکھے کم سمجھدار، انتہائی بیوقوف لوگ ان کی بات مان لیں گے کہ ٹرمپ امریکہ کو دوبارہ عظیم بنا رہے ہیں۔ 30 فیصد امریکی ابھی بھی ٹرمپ کو سپورٹ کررہے ہیں یعنی ہر 3 میں سے ایک امریکی ٹرمپ کی تائید و حمایت کررہا ہے۔ 64 فیصد انہیں پسند نہیں کرتے، ان کے لئے ٹرمپ نے کچھ نہیں کیا اپنی اس میعاد میں محاصل یا ٹیرف کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا، جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمت بڑھی Inflotion ہوا۔ افراط زر بڑھتا ہی جارہا ہے اور زندگی مشکل ہوتی جارہی ہے جو غریب ہیں ان کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہی نہیں کئے۔ ان کے عجیب و غریب اقدامات سے ان ہی کے حمایتی اب ان کے خلاف ہوتے جارہے ہیں۔