دبئی، 7 اپریل (یواین آئی)مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے اثرات دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں، جہاں جائیدادوں کی قیمتوں اور فروخت میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے ۔ رپورٹس کے مطابق ایران کے حملوں کے تناظر میں دبئی میں رہائشی اور تجارتی املاک کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے ، جس سے اس شعبے سے وابستہ افراد کی معاشی صورتحال بھی متاثر ہو رہی ہے ۔دبئی لینڈ ڈپارٹمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال شہر میں 917 ارب درہم مالیت کی 2 لاکھ 70 ہزار سے زائد جائیدادوں کا کاروبار ہوا تھا، تاہم حالیہ کشیدگی کے بعد اس رفتار میں کمی شروع ہو گئی ہے ۔کاروباری ویب سائٹ اے جی بی آئی کے مطابق مارچ میں جائیدادوں کی فروخت کے حجم میں گزشتہ مہینے کے مقابلے تقریباً 30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی ایک بڑی وجہ پہلے سے طے شدہ معاہدوں کی منسوخی اور تعطل ہے ۔اسی دوران نئے معاہدوں میں خریدار قیمتوں میں 30 فیصد تک کمی کا مطالبہ کر رہے ہیں، جس سے مارکیٹ مزید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا کہ دبئی کا تجارتی رئیل اسٹیٹ سیکٹر بھی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے ، جبکہ ہوٹلوں میں قیام کی شرح معمول کے 90 فیصد سے کم ہو کر 23 فیصد رہ گئی ہے ۔حالات کے پیش نظر ہوٹل انڈسٹری نے صارفین کو راغب کرنے بھاری رعایتیں دینا شروع کر دی ہیں، اور پام جمیرہ جیسے علاقوں میں لگژری پراپرٹیز کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے ۔ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ پر اس کے اثرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔k