ایران سے لین دین بند کرو، ورنہ امریکی پابندیوں کیلئے تیار رہو: امریکہ

   

واشنگٹن۔ 6 اکٹوبر (ایجنسیز) امریکہ نے ایران کے ساتھ کاروبار اور مالی لین دین کرنے والے غیرملکی مالیاتی اداروں کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہیکہ تہران کے مالیاتی شعبے کے ساتھ معاملات جاری رکھنے والے بینکوں کو واشنگٹن کی جانب سے کسی بھی وقت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے واضح کیا ہیکہ ایسے اداروں کو پیشگی اطلاع کے بغیر بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق جو غیرملکی مالیاتی ادارے پابندیوں کی زد میں موجود ایرانی بینکوں کے ساتھ لین دین جاری رکھیں گے، انہیں فوری طور پر ایسے معاملات اور مالیاتی تعلقات ختم کرنے چاہئیں۔واشنگٹن نے خبردار کیا ہیکہ ایران کے مالیاتی نظام کو عالمی مالیاتی نظام تک رسائی فراہم کرنے والے ادارے بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔امریکی حکام کے مطابق غیرملکی مالیاتی اداروں کی جانب سے ایرانی بینکوں یا ان کی بیرونِ ملک شاخوں اور ذیلی اداروں کو مالیاتی خدمات فراہم کرنا بھی پابندیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایسے معاملات میں امریکی مالیاتی اداروں یا امریکی افراد کو پابندیوں کی خلاف ورزی کا سبب بننے پر متعلقہ اداروں کو سول اور فوجداری کارروائی کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔ امریکہ نے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کیلئے حالیہ دنوں میں پابندیوں کا دائرہ مزید وسیع کیا ہے۔ یکم اکتوبر کو امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے آٹو موبائل، ریلوے، مینوفیکچرنگ اور اسٹیل سے متعلق نیٹ ورکس کو بھی نشانہ بنایا تھا جبکہ اس سے قبل ایرانی مالیاتی اور اسلحہ سازی کے نیٹ ورکس کے خلاف بھی کارروائیاں کی جاچکی ہیں۔امریکی حکومت کا کہنا ہیکہ اس مہم کا مقصد ایران کی ان مالیاتی اور تجارتی سرگرمیوں کو محدود کرنا ہے جن کے ذریعے تہران امریکی پابندیوں سے بچنے یا اپنی آمدنی اور مالی وسائل منتقل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اس پالیسی کے تحت واشنگٹن غیرملکی بینکوں اور کمپنیوں پر بھی دباؤ بڑھا رہا ہے تاکہ وہ ایرانی مالیاتی اداروں کے ساتھ کاروباری روابط ختم کریں۔

ٹرمپ کے گولڈن ڈوم دفاعی منصوبے کیلئے فنڈنگ پر
سوالات، کانگریس سے منظوری مشکل
واشنگٹن، 6 اکتوبر (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے قومی بیلسٹک میزائل دفاعی نظام کیلئے پیش کردہ گولڈن ڈوم منصوبے کو فنڈنگ کے حوالے سے بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے ، کیونکہ مالی سال 2027 کیلئے منصوبے کی زیادہ تر فنڈنگ ایک ایسے مفاہمتی پیکیج سے منسلک ہے جسے کانگریس سے منظور کرانا مشکل نظر آرہا ہے ۔کانگریشنل بجٹ آفس (سی بی او) کے مطابق میزائل دفاعی پروگرام کی ترقی اور آپریشن پر 20 برسوں کے دوران تقریباً 1.2 ٹریلین ڈالر لاگت آنے کا اندازہ ہے ۔پینٹاگون نے 350 ارب ڈالر کے مجوزہ مفاہمتی پیکیج کے ذریعے گولڈن ڈوم کیلئے 17 ارب ڈالر طلب کیے ہیں، جبکہ اس کے 1.15 ٹریلین ڈالر کے بنیادی بجٹ میں اس پروگرام کیلئے صرف 40 کروڑ ڈالر مختص کرنے کی درخواست کی گئی ہے ۔سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے میزائل ڈیفنس پروجیکٹ کے ڈائریکٹر تھامس کاراکو نے کہا کہ جمعرات کو نئے مالی سال کے آغاز کے وقت پروگرام کیلئے کوئی فنڈنگ موجود نہیں تھی۔انہوں نے ‘دی ہل’ سے کہا، ”یہ مالی سال 2027 کی تخصیصات سے بنے گا یا ختم ہوجائے گا، اور میں نے کہا تھا کہ گولڈن ڈوم کیلئے یہی سب سے فوری ضرورت ہے ۔ یہ اس نقطئہ نظر سے زندگی اور موت کا معاملہ ہے ۔