ایران میں اقلیتوں اور خواتین کے حقوق پر غور کریں

   

مسلمانوں سے متعلق بیان پرہندوستان کا ایران کو جواب

نئی دہلی: ہندوستان کی وزارت خارجہ نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو جواب دیا ہے۔ پیر کو اپنے ایک بیان میں وزارت خارجہ نے کہا کہ ہندوستان کے خلاف کوئی تبصرہ کرنے سے پہلے ایران کو اپنے معاملات پر غور کرنے اور اس سلسلہ میں ان کا ریکارڈ دیکھنے کی ضرورت ہے۔خیال رہے کہ حال ہی میں علی خامنہ ای نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں ہندوستان کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے ہندوستان کو ان ممالک کے زمرے میں رکھا جہاں مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جاتے ہیں۔ انہوں نے ہندوستان کو میانمار اور غزہ کے ساتھ شمار کیا۔ اس دوران انہوں نے دنیا بھر کے مسلمانوں سے مسلم آبادی کے تحفظ کے لیے متحد ہونے کی اپیل بھی کی۔اب ہندوستان کی وزارت خارجہ نے اس پر جواب دیا ہے۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران کو ایسے تبصرے کرنے سے پہلے اپنا ریکارڈ خود چیک کرنا چاہیے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ ہم ایران کے سپریم لیڈر کے ہندوستان کے مسلمانوں کے بارے میں کیے گئے تبصروں کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ یہ غلط معلومات پر مبنی ہے اور قابل قبول نہیں ہے۔ اقلیتوں پر تبصرہ کرنے والے ممالک کو پہلے اپنے اندر جھانکنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔یہ تنازعہ ایک ایسے وقت پیدا ہوا ہے جب ہندوستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعلقات خاص طور پر توانائی اور تجارتی شعبوں میں مضبوط ہو رہے ہیں۔ اس کے باوجود ایران کے اس بیان نے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک سفارتی کشیدگی پیدا کر دی ہے۔