تہران : ایران کے شہرآبادان میں واقع بڑی آئل ریفائنری کے ملازمین نے ہفتے کے روزاپنے مطالبات کے حق میں ہڑتال کی ہے۔اس کی وجہ سے تیل صاف کرنے کے ملک کے اس سب سے بڑے کارخانے کی مرمت اور حفاظتی جانچ پڑتال متاثر ہوئی ہے۔یہ واضح نہیں کہ آبادان ریفائنری میں پیداوار متاثر ہوئی ہے یا نہیں۔مشرق اوسط کی ایک صدی قدیم یہ آئل ریفائنری خلیج کے قریب جنوبی صوبہ خوزستان میں واقع ہے اوراس میں تیل صاف کرنے کی صلاحیت 400,000 بیرل یومیہ ہے۔ایران میں بائیس سالہ مہساامینی کی حراست میں موت کے بعد ستمبرکے وسط سے عمومی مظاہرے جاری ہیں۔اس دوران میں توانائی کے اہم شعبے سمیت پورے ایران میں صنعتی کارخانوں میں بھی ہڑتالیں پھیل چکی ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق سکیورٹی فورسزنے ہفتے کے روز عراق کی سرحد کے قریب واقع مغربی شہر جوان رودمیں حکومت مخالف مظاہرین پر آنسو گیس کا استعمال کیا اور فائرنگ کی۔ویڈیوز میں ایک روایتی مذہبی تقریب کے دوران میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔یہ تقریب ایک قبرستان میں جھڑپوں میں سات افراد کی ہلاکت کے 40 ویں دن کے موقع پر منعقد کی جارہی تھی۔ان کے بارے میں انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہناہے کہ وہ شہر میں بدامنی کے دوران میں ہلاک ہوئے تھے۔ایران میں مظاہروں پر نظر رکھنے والی ناروے میں قائم انسانی حقوق تنظیم ہنگاوکاکہنا ہے کہ پولیس نے ہفتے کے روزجوان رود میں ایک 22 سالہ شخص کو گولی مار کرہلاک کردیا ہے ۔