ایران کی جیت ، ٹرمپ اور اسرائیل کی ہار

   

روش کمار
امریکہ اور ایران کے درمیان 12 روزہ عارضی جنگ بندی ہوگئی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اِس عارضی جنگ بندی کو امریکہ اور اپنی کامیابی قرار دے کر جشن منارہے ہیں، رقص کررہے ہیں۔ ویسے بھی بات بات پر رقص کرنا صدر ٹرمپ کی عادت ہے۔ ایران کو پتھر کے دور میں پہنچانے والے ٹرمپ جنگ بندی کو اپنی جیت اور سنہرا دور بتاکر جشن منارہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ کا جشن منانا بھی ایران کی جیت کا ہی حصہ ہے کہ اس نے ہرانے کے بعد ٹرمپ کو فاتح کی طرح ڈانس کرنے کے لئے چھوڑ دیا ہے۔ آبنائے ہرمز پر کنٹرول ہار کر ٹرمپ اگر ڈانس کرنا چاہتے ہیں تو اُنھیں ڈانس کرنے دینا چاہئے مگر جس کے پاس تہذیب و تمدن کی دولت ہوتی ہے اس کا کردار ایسا ہی ہونا چاہئے کہ وہ جیتنے کے بعد بھی میدان جنگ میں ڈی جے بجاکر ڈانس نہیں کرے گا بلکہ چپ چاپ واپس ہوجائے۔ انسانی جذبہ کی تاریخ کے ہزاروں سال کی داستانوں میں 40 دنوں کی یہ دردناک تاریخ، ایران اپنے نام کرچکا ہے۔ ایران کی دس شرائط کی ایک ایک سطر امریکہ کو دھول مٹی میں ملادینے کی داستان ہے۔ یہ وہ شرطیں ہیں جو امریکہ نے نہیں ایران نے طے کی۔ ممبئی میں ایران کے قونصل جنرل نے لکھا ہے کہ تہران نے امریکہ کی 15 تجاویز کو مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ جنگ بندی ہوگی تو ایران کی شرطوں پر ہوگی۔ ایران نے کوئی اڈجسٹمنٹ نہیں کیا۔ ٹرمپ کو ایران کی شرطوں پر دستخط کرنی پڑی ہے۔ ٹرمپ ایران کی حکومت کا بیان اپنے صفحہ سے پوسٹ کررہے ہیں۔ جو ٹرمپ مذاکرات کے درمیان بمباری کرنے لگے، حکومت تبدیل کروانے لگے وہی ٹرمپ بمباری روک کر ایران کی دی گئی بات چیت کی شرائط کو ٹوئٹ کررہے ہیں۔ B-2 بمبار کو بیوٹی فل بتانے والے ٹرمپ نے امریکہ کی تاریخ داغدار کردی ہے اور ایران جس ملک پر سب سے زیادہ بمباری ہوتی رہی اس کی بچیاں قتل کردی گئیں، وہ کبھی ہڑبڑایا نہیں، گڑ گڑایا نہیں اور جو ملک ہر دن جیت کے دعویٰ کرتا رہا، ایران کو مٹادینے کا دم بھرتا رہا، اس کے صدر جھوٹ بولتے بولتے بڑبڑانے لگے اور اتنا بڑبڑانے لگے کہ گڑ بڑانے لگے۔ اس حد تک گڑبڑا گئے کہ 25 ویں ترمیم کے تحت ٹرمپ کو ان کے عہدہ سے ہٹانے کی بات ہونے لگی۔ خامنہ ای کے قتل کے بعد ایران میں 40 دنوں کا سوگ تھا۔ چالیسویں دن ایران کے سوگ کو جیت میں بدل دیا۔ شیعہ اسلام میں چالیس دن کی بہت اہمیت ہے۔ کربلا میں امام حسینؑ کی شہادت کے بعد 40 دن تک سوگ منایا گیا۔ کربلا کی لڑائی کے 40 دن بعد سب سے پہلے پیغمبر اسلام کے صحابی حضرت جابر بن عبداللہؓ امام حسینؑ کی قبر پر گئے تھے۔ چالیس روزہ سوگ کے ختم ہونے کے ساتھ ہی جنگ بندی ہوئی، چالیس دن ہوگئے۔ خامنہ ای کی شہادت کو ابھی تک اُنھیں دفنایا نہیں گیا۔ چالیس کی ایک اور اہمیت یہ ہے کہ جب جنگ شروع ہوئی تب نیتن یاہو نے کہا تھا کہ امریکہ کا ساتھ ملنے کے بعد میں ایران میں 40 سال سے جو کرنا چاہتا تھا، اب کرپاؤں گا اور ہم وہی کریں گے۔ 40 ویں دن نیتن یاہو جنگ بندی کا خیرمقدم کررہے تھے، ان کے 40 سال کے خواب پر ایران نے 40 دنوں میں گوبر لیپ دیا۔ لڑائی کے پہلے ہی ایران نے اپنے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کو کھو دیا، وہ دفتر سے بھاگے نہیں بلکہ میزائیلوں کے آنے کا انتظار کرتے رہے، ایران کی سلامتی کے سربراہ علی لاریجانی کے قتل کے بعد بھی ایران سناٹے میں نہیں آیا۔ اسرائیل کے نیتن یاہو لیڈر کو قتل کرنے والے لیڈر بننے میں مصروف تھے، ایران نے اپنے سارے لیڈر گنواکر گلوبل لیڈر کا مقام حاصل کرلیا۔ اسرائیل امریکہ کے دم پر ایران کو جھکانے چلا، ایران نے امریکہ کو ہی جھکادیا۔ ایران کسی ایک مضبوط لیڈر کے چکر میں پھنسا ہوا ملک نہیں، ایران نے خود کو اس سوال کے آگے گروی نہیں رکھا کہ خامنہ نہیں تو کون؟ لاریجانی نہیں تو کون؟ اس نے بتادیا کہ لیڈر ملک نہیں ہوتا ملک لیڈر ہوتا ہے۔ ایران ونیزویلا نہیں نکلا جس کے صدر کو امریکہ اغواء کرلے گیا اور باقی لیڈران امریکہ سے مل گئے۔ یہی ایران کی لیڈرشپ ہے کہ کمانڈر کے مارنے جانے کے بعد بھی اس کی فوج لڑتی رہی اور جنگ کے میدان سے جیت کر آگئی۔ ایران نے جنگ کی وہ تاریخ بدل دی جس میں کمانڈروں یا سپہ سالاروں کے مارے جانے پر بھگدڑ مچ جاتی تھی اور فوج ہار جاتی تھی۔ ایران کی فوج میں ہر سپاہی فوجی سربراہ بن گیا اور ہر فوجی علی خامنہ ای بن گیا۔ 40 دن تک امریکہ ایران میں اپنی فوج اُتارنے کی بات کرتا رہا مگر ہمت نہیں کرپایا۔ امریکہ سے کبھی بھی بات چیت نہیں کرنے کا دعویٰ کرنے والا ایران بات چیت کیلئے کیسے تیار ہوگیا، ہم آپ کو یہ بھی بتادیں گے۔ گروپ فوٹو کھنچواکر گلوبل لیڈر بننے والے یہ لیڈر (ہم بات کررہے ہیں غزہ بورڈ آفس پیس کی) ان 40 دنوں میں کاغذی گلوبل لیڈر ثابت ہوئے۔ ایران کسی گروپ تصویر میں گھس کر گلوبل لیڈر بنتا نظر نہیں آیا بلکہ اپنے ایمان پر جما رہا، ایمان کے لئے لڑتا رہا۔ ٹرمپ تو ایران کی تہذیب کا خاتمہ کرنے والے تھے، کچھ بھی بکواس کئے جارہے تھے۔ لوگوں نے سمجھا کہ ایران پر امریکی صدر جوہری حملہ کردیں گے۔ یہ کیسی دنیا ہے کہ کسی تہذیب کو مٹانے کی دھمکی پر چپ ہوجاتی ہے۔ ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی نے تہذیب کا خاتمہ کرنے کی دھمکی دینے والے ٹرمپ کے بیان پر کچھ بھی نہیں کہا جبکہ کہہ سکتے تھے۔ راہول گاندھی نے ضرور ٹوئٹ کیاکہ کوئی بھی زبان یا کارروائی جو تہذیب کے خاتمہ کی بات کرتی ہو، اس کی مذمت کرنی ہی چاہئے۔ جوہری ہتھیاروں کا استعمال کبھی بھی صحیح نہیں ہوسکتا۔ کسی بھی حال میں کسی بھی صورتحال میں صحح نہیں ٹھہرائی جاسکتی۔ ٹرمپ کے اس ٹوئٹ کے بناء جنگ بندی کی بات آگے نہیں بڑھ سکتی جس ٹوئٹ میں ٹرمپ تہذیب کا خاتمہ کرنے چلے تھے۔ 47 سال کی تباہی، بدعنوانی اور اموات کا خاتمہ ہونے والا ہے۔ خدا ایران کے لوگوں پر رحم کرے۔ دنیا سانس روک کر انتظار کرنے لگی کہ ٹرمپ آخر ایران میں کیسی تباہی لائیں گے؟ کہیں جوہری بم تو ایران پر نہیں گرادیں گے۔ امریکہ میں انہیں عہدہ صدارت سے ہٹانے کی تیاریاں چل پڑیں، گھڑی ٹک ٹک کرتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی تب ہی خبر آتی ہے کہ دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی ہوگئی ہے۔ ٹرمپ نے کہہ دیا کہ وہ دو ہفتوں کے لئے جنگ ٹال رہے ہیں۔ ایران تھک گیا ہے۔ انھوں نے لکھا کہ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مانگ کہ میں ایران پر ہونے والے خطرناک حملہ کو روک دوں اور ایران کی جانب سے ہرمز کو فوری اور پوری طرح کھول دینے کی رضامندی کے بعد دو ہفتے کے لئے ایران پر بمباری کرنے کے فیصلہ کو ٹال رہا ہوں، یہ جنگ بندی دونوں طرف سے ہوگی۔ ایسا کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے تمام فوجی مقاصد حاصل کرچکے ہیں اور ان سے بھی آگے جاچکے ہیں۔ ہم ایران کے ساتھ طویل عرصہ کے لئے امن قائم کرنے کے سمجھوتہ پر بھی کافی بات چیت کرچکے ہیں۔ ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اپنا معیار اس معاملہ میں چھوٹا کرلیا جب انھوں نے کہاکہ ہم دلال ملک نہیں جنگ بندی کے اعلان کے کئی گھنٹوں کے بعد بھی وزیراعظم نریندر مودی کا کوئی بیان نہیں آیا۔ وہ 8 اپریل کی دوپہر تک مدرا ایوجنا کے بارے میں ٹوئٹ کرتے رہے۔ شہباز شریف کے ٹوئٹ کے بعد ہندوستانی وزارت خارجہ کی طرف سے ردعمل سامنے آیا جس میں جنگ بندی کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔ امید جتائی گئی ہے کہ ہرمز سے امن کے سفر کا دوبارہ آغاز ہوگا۔ وزارت خارجہ نے لکھا ہے کہ ہم بات اور ثالثی کوششوں میں یقین رکھتے ہیں۔ مگر اس معاملہ میں پاکستان کا نام نہیں لیا گیا کسی بھی ملک کا نہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ایران اور امریکہ کی بات چیت کو اسلام آباد مذاکرات کہا ہے۔ شہباز شریف کے ٹوئٹ میں اپنے دوستوں کے ببیج بی بی کہے جانے والے نیتن یاہو کا ذکر تک نہیں۔ ہندوستان کے وزیراعظم مودی جنگ سے پہلے اسرائیل چلے گئے جسے کئی لوگ خارجہ پالیسی یا سفارت کاری کی تباہی کہنے لگے ہیں۔ نیتن یاہو کا نام ٹرمپ لے رہے نہ شہباز شریف۔ جھگڑا اسرائیل اور ایران کے درمیان کا ہے مگر اسرائیل کا نام نہیں۔ اسرائیل کے قائد اپوزیشن نے لکھا کہ ہماری تاریخ میں اتنی بڑی سیاسی تباہی کبھی نہیں ہوئی۔ اسرائیل کے تحفظ کو لے کر فیصلے ہورہے تھے اور ہم میز پر ہی نہیں تھے۔ ایک سال پہلے کتنے ہی ارکان پارلیمان کے وفود پاکستان کے خلاف ماحول بنانے دنیا بھر میں گئے، اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا ، بہرحال آج کی تاریخ میں مودی پاکستان کو دہشت گردی سے جوڑ کر مذمت کردیں گے ان کے حامیوں میں خوشی کی لہر پیدا ہوسکتی ہے۔