ایران کے میزائلز گھٹتے جارہے ہیں ، صرف معاہدہ ہی واحد راستہ : ٹرمپ

   

واشنگٹن ۔ 6 جون (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے میزائل ذخائر میں نمایاں کمی آ چکی ہے اور اس کے پاس بالآخر معاہدہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔این بی سی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس اب صرف 21 سے 22 فیصد میزائل باقی رہ گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ایسے اقدامات کرنے پر مجبور ہوگا جن کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ جاری تنازع اور اس کے حل میں وقت لگتا ہے اور ایسے معاملات فوری طور پر حل نہیں ہوتے۔ تاہم صورتحال اس سمت میں جا رہی ہے جہاں ایران کو مذاکرات اور معاہدے کی طرف آنا پڑے گا۔اس سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ ایران کے معاملے پر زبردست کامیابی حاصل کر رہی ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران کو نیوکلیئر ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران اس وقت نیوکلیئر ہتھیار رکھنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور امریکا اس حوالے سے اپنی پالیسی پر قائم ہے۔

ہم جلد ہی ایران سے نکل جائیں گے :ٹرمپ
واشنگٹن، 6 جون (یو این آئی) امریکی صدر ٹرمپ نے وسکونسن ریاست کے زرعی علاقوں کے دورے کے دوران ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ ایجنڈے کے اہم امور پر بات چیت کی۔ ٹرمپ نے موقف اپنایا کہ وہ ملک کی اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے نکلے تھے ، لیکن ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے انہوں نے اس ملک کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز کیا ہے ۔ انہوں نے یہ پیغام بھی دیا کہ یہ صورتحال جلد ہی ختم ہو جائے گی۔ امریکی صدر نے کہا، “ہم بہت جلد ایران سے باہر نکل آئیں گے ، چاہے یہ کسی معاہدے کے ذریعے ہو یا کسی بہت سخت طریقے سے ، ہر صورت میں ایسا ہو کر رہے گا۔ شاید سب سے سخت طریقے ہی سب سے آسان راستے ہوں لیکن ہم وہاں سے نکل جائیں گے ۔” ٹرمپ نے کہا کہ ہمیں ایران کے جوہری خطرے کو ختم کرنا تھا۔ ہم ایسا ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے تھے ۔ کوئی بھی ایسا ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ ہم نے اس کام کو بڑے پیمانے پر نمٹا دیا ہے ۔ آپ دیکھیں گے ، کسی نہ کسی طرح یہ معاملہ اب حل ہو چکا ہے ۔” اس کے علاوہ، ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران سے متعلق عمل مکمل ہونے کے بعد امریکہ میں پٹرول اور گیس کی قیمتیں قلیل وقت میں نیچے آ جائیں گی، انہوں نے امریکی عوام سے تھوڑا صبر کرنے کی اپیل کی۔