ایران کے پاس یورینیم کا کافی ذخیرہ، آئی اے ای اے کی رپورٹ

   

نیوکلیر بم کی تیاری تہران کیلئے مشکل نہیں۔ ایران تین تا چار ہفتے میں بم سازی مکمل کرسکتا ہے ۔ عالمی برادری کے اندیشے غلط نہیں
ویانا : اقوام متحدہ کی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے پاس 60 فیصد تک یورینیم کی افزودگی کے لئے بڑے پیمانے پر جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ موجود ہے۔ جو کہ ہتھیاروں کی تیاری اور ان کے استعمال کے لیے کافی ہوسکتا ہے۔ یہ ذخیرہ جوہری بم کی تیاری کے لیے بھی کافی ہوگا۔ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان 2015 کو جوہری معاہدہ کیا گیاتھا۔ مذکورہ معاہدہ کے تحت اس مسئلہ کو حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ جوہری ہتھیاروں کی بے جا تیاری پر روک لگائی جائے۔ معاہدہ کے مطابق ایران کو 3.67 فیصد پر یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت دی گئی تھی، جو اس معاہدے سے پہلے حاصل کیے گئے 20 فیصد سے بھی کم ہے۔سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں مذکورہ معاہدے سے واشنگٹن کی دستبرداری کا اعلان کیا گیا تھا اور تہران کے خلاف پابندیاں عائد کی گئی۔ ایک سینئر سفارت کار نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی رپورٹ کے جواب میں کہا کہ ایران اگر چاہے تو 25 کلوگرام (یورینیم) 90 فیصد پیدا کر سکتا ہے۔ جب یہ پوچھا گیا کہ کیا ایران کے پاس ایک بم کے لیے 60 فیصد تک یورینیم کا مواد موجود ہے؟ تو اس کا جواب ہاں میں دیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے پاس یورینیم کا ذخیرہ 60 فیصد تک افزودہ ہوا اور یورینیم ہیکسا فلورائیڈ کی شکل میں افزودہ کرنے والی گیس کا تخمینہ 55.6 کلو گرام ہے، جو کہ گزشتہ سہ ماہی رپورٹ سے 12.5 کلو گرام زیادہ ہے۔ سفارت کار نے کہا کہ اگر ایران چاہے تو بم بنانے کے لیے کافی مواد تیار کرنے میں تقریباً تین سے چار ہفتے لگے سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئی اے ای اے کو اس سمت میں کسی اقدام کا پتہ لگانے میں دو سے تین دن لگیں گے۔ ایران نے اس سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد کسی کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ ملک کو غیر ملکی حملوں سے محفوظ رکھنا ہے۔ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ بات چیت نے معاہدے کو بحال کرنے کی طرف ہنگامہ خیز پیش رفت کی ہے۔ اس معاہدہ کے تحت یورینیم کے ذخیرے کو کم کرنے پر زور دیا جاسکتا ہے۔ جو فی الحال تقریباً چار ٹن ہے۔تاہم ان مذاکرات میں ایک رکاوٹ بھی پیش آئی ہے۔ ایران کی جانب سے تین غیر اعلانیہ مقامات پر پائے جانے والے یورینیم کے ذرات کے بارے میں وضاحت کرنے میں مسلسل ناکامی رہی ہے۔ ایران اس معاملے پر ایجنسی کی برسوں سے جاری تحقیقات کو ختم کرنے کے لیے بات چیت کا مطالبہ کر رہا ہے۔