ووٹر لسٹ کی جانچ کرنی پڑتی ہے ، اپوزیشن کے تمام الزامات مسترد، آئینی حیثیت برقرار
نئی دہلی 27 مئی:(ایجنسیز) سپریم کورٹ نے بہار اسمبلی انتخابات 2025 سے قبل ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر SIR کے معاملے میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے کانگریس، آر جے ڈی، ترنمول کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے تمام اعتراضات مسترد کر دیے۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ الیکشن کمیشن کو ووٹر لسٹوں کی جانچ پڑتال اور نظرثانی کا مکمل آئینی اختیار حاصل ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ انتخابی عمل میں شفافیت اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے ایس آئی آر ایک ضروری اقدام ہے۔ عدالت نے کہا کہ ووٹر لسٹوں کی درستگی برقرار رکھنا آئینی تقاضہ ہے اور الیکشن کمیشن اپنے اختیارات کے دائرے میں رہتے ہوئے یہ عمل انجام دے سکتا ہے۔ایس آئی آر کے خلاف دائر درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن کو آئین کے آرٹیکل 326، عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 اور متعلقہ قواعد کے تحت اس نوعیت کی جامع نظرثانی کا اختیار حاصل نہیں۔ ان درخواستوں میں ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز، راجیہ سبھا رکن منوج جھا، مہوا موئترا اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کی عرضیاں شامل تھیں۔ تاہم سپریم کورٹ نے تمام دلائل کو مسترد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے اقدام کو برقرار رکھا۔ عدالت نے 29 جنوری کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جسے آج سنایا گیا۔ فیصلے کے بعد بہار میں شروع کی گئی ایس آئی آر مہم کو قانونی طور پر مکمل حمایت حاصل ہوگئی ہے۔ بہار میں ایس آئی آر کے پہلے مرحلے کے دوران تقریباً 65 لاکھ ووٹروں کے نام ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے تھے۔ بعد ازاں عدالتی کارروائی کے دوران الیکشن کمیشن نے ان افراد کی فہرست بھی عوامی کردی تھی۔الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹر لسٹ سے نام حذف کیے جانے والوں میں تین بڑی کیٹیگریز شامل تھیں۔ پہلی کیٹیگری ایسے ووٹروں کی تھی جو انتقال کر چکے تھے۔ دوسری کیٹیگری ان افراد کی تھی جو کسی دوسری جگہ منتقل ہوچکے تھے، جبکہ تیسری کیٹیگری ایسے ووٹروں پر مشتمل تھی جن کے نام دو مختلف مقامات کی ووٹر لسٹوں میں درج تھے۔بہار کے بعد ایس آئی آر مہم کو دوسرے مرحلے میں چھتیس گڑھ، گوا، گجرات، کیرالہ، مدھیہ پردیش، راجستھان، تمل ناڈو، اتر پردیش اور مغربی بنگال سمیت کئی ریاستوں تک توسیع دی گئی۔ اس کے علاوہ انڈمان و نکوبار، لکش دیپ اور پڈوچیری میں بھی یہ عمل انجام دیا گیا۔مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات سے قبل اس عمل نے شدید سیاسی ہنگامہ کھڑا کر دیا تھا۔ ترنمول کانگریس نے الزام لگایا تھا کہ مخالف ووٹروں کے نام جان بوجھ کر حذف کیے جا رہے ہیں۔ اتر پردیش اور مغربی بنگال میں لاکھوں ووٹروں کے نام فہرستوں سے نکالے جانے پر اپوزیشن جماعتوں نے سخت احتجاج بھی کیا تھا۔اپوزیشن جماعتوں کا سب سے بڑا الزام یہی تھا کہ ایس آئی آر کے ذریعے ووٹ چوری کی جا رہی ہے، تاہم سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ان تمام اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی فہرستوں کی درستگی برقرار رکھنا جمہوری نظام کے لیے ناگزیر ہے۔