لکھنؤ، 19 اکتوبر (آئی اے این ایس) سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے پیر کے روز ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں کو سنگین خامیاں قرار دیتے ہوئے اس عمل پر خرچ ہونے والی رقم اور اس دوران کئی افراد کی موت کے واقعات پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ان بے ضابطگیوں کو تسلیم کرنا پسماندہ طبقات، دلتوں اور اقلیتوں پر مشتمل پی ڈی اے اتحاد کی ایک بڑی کامیابی ہے۔اکھلیش یادو نے کہا کہ صحافی اس معاملے سے بخوبی واقف ہیں اور ایس آئی آرکے بارے میں ہونے والی بحث اور دعوؤں کے باوجود کئی ایسے معاملات سامنے آئے ہیں جو انتخابی عمل کی شفافیت پر سوال اٹھاتے ہیں۔آپ سب تجربہ کار صحافی ہیں اور حالات سے واقف ہیں۔ ایس آئی آرکے بارے میں مختلف باتیں اور دعوے کیے گئے لیکن ایک ہی شخص کا نام 10 ووٹر شناختی کارڈوں پر درج ہونا، ایک شخص کے نام پر5 کارڈ جاری ہونا اور ایک ہی شخص کے نام پر 4 مختلف پولنگ بوتھوں میں کارڈ تقسیم ہونا سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔ اکھلیش یادو نے مزیدکہا کہ جب ایس آئی آرکی مشق پرکروڑوں روپے خرچ کیے گئے اور اس عمل کے دوران کئی افراد کی جانیں جانے کی اطلاعات سامنے آئیں، تو ان بے ضابطگیوں کو معمولی غلطیاں قرار دینا مناسب نہیں۔ الیکشن کمیشن اب ان مسائل کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں معمولی غلطیاں قرار دے رہا ہے، لیکن یہ معمولی غلطیاں نہیں بلکہ بڑی بے ضابطگیاں ہیں۔سماج وادی پارٹی کے سربراہ نے کہا،یہ ہماری کامیابی ہے کہ الیکشن کمیشن تسلیم کررہا ہے کہ بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اور انہیں درست کیا جائے گا۔ پی ڈی اے کی یہ سب سے بڑی کامیابی ہے۔اکھلیش یادو نے جَنتر منتر کو مقررہ احتجاجی مقام کی حیثیت سے خارج کیے جانے کے معاملے پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے اس فیصلے کے پس منظر اور اس کے لیے ذمہ دار افسران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے بارے میں دریافت کیا۔انہوں نے کہا، ’’اگر افسران کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے تو دہلی میں کیا ہوگا؟ جَنتر منتر کے احتجاجی مقام کو تبدیل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ آپ کو جَنتر منتر سے ہٹنا پڑا، لیکن آپ نے اس بات کو تسلیم تو کیا ہے۔