فرانس میں مہنگائی کے خلاف شدید احتجاج‘ ایک شخص کی موت

,

   

برہم عوام نے دکانوں میں لوٹ مارمچادی،2000 سے زائد مظاہرین گرفتار‘600 پولیس ملازمین زخمی

پیرس۔18؍اکتوبر( ایجنسیز) فرانس میںمہنگائی اور عوامی سہولیات کی ابتر صورتحال کے خلاف عوام نے شدید احتجاج کیا۔ برہم عوام نے دوکانات میں لوٹ مار مچادی۔ مہنگائی کے خلاف ہونے والے مظاہروں نے پرتشدد صورت اختیار کر لی ہے۔ میڈیا کے مطابق پرتشدد واقعات کے دوران مظاہروں میں شامل ایک شخص ہلاک اور سینکڑوں پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں جبکہ سے زائد2000 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔میڈیاکے مطابق ہفتے کے روز ملک گیر مظاہرے فسادات میں تبدیل ہو گئے۔ مشتعل افراد نے ایک ٹاؤن ہال کو آگ لگا دی اوردکانوں میں لوٹ مار کی، عمارتوں پر وال چاکنگ کی اور ملک کے مختلف شہروں میں پرتشدد گروہوں کی پولیس کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئیں۔ پیرس میں مظاہرے کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے ایک شخص ہلاک ہو گیا جبکہ پیرس میں پولیس نے ریکارڈ 855 گرفتاریاں کیں۔ وزیرِ داخلہ کے مطابق مظاہروں کے دوران ملک بھر میں 500 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔میڈیاکے مطابق مہنگائی اور عوامی سہولیات کی ابتر صورتحال کے خلاف 5 لاکھ سے زائد افراد نے درجنوں شہروں میں مارچ کیا۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر صدر ایمانوئل میکرون کے دفتر نے اعلان کیا ہے کہ وہ آج رات قوم سے خطاب کریں گے۔میڈیا کے مطابق اگرچہ لاکھوں افراد نے پرامن احتجاج کیا تاہم احتجاج کی آڑ میں پرتشدد گروہوں نے سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنایا، لگژری بوتیکس اور سوپر مارکیٹوں کو لوٹا اور پولیس اہلکاروں اور ان کی گاڑیوں پر حملے کیے۔ فرانس کے شہر لیموج میں نقاب پوش مظاہرین نے 143 سال پرانے تاریخی ٹاؤن ہال کو آگ لگا دی، آتشزدگی سے عمارت کی چھت گر گئی۔مارسیلی میں مظاہرین سٹی ہال میں گھس گئے، مجسمہ الٹ دیا اور فرنیچر توڑ دیا جبکہ لیل شہر میں میئر کے دفتر میں بھی توڑ پھوڑ کی گئی۔پیرس سمیت مختلف شہروں میں مظاہرین اور پولیس آمنے سامنے آگئے۔پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ مظاہرے مہنگائی، حکومتی پالیسیوں اور پولیس کے مبینہ تشدد کے خلاف کیے گئے۔ فرانس کے دارالحکومت پیرس سمیت کئی شہروں میں پرتشدد واقعات پیش آئے۔ یہ مظاہرے مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی میں اضافے کے خلاف کیے گئے ۔یہ احتجاج صدارتی انتخابات سے چھ ماہ قبل ہوئے ہیں۔مظاہروں کے منتظمین نے شرکا کی تعداد آٹھ لاکھ بتائی جبکہ وزیر داخلہ لوراں نونیز کے مطابق مظاہروں میں ساڑھے پانچ لاکھ افراد شریک ہوئے۔وسطی پیرس کے ریپبلک اسکوائر میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی۔ دارالحکومت کے کئی علاقوں میں پولیس کی بھاری نفری کوتعینات کیا گیا۔ پولیس نے سیاہ لباس اور ماسک پہنے سیکڑوں مظاہرین کے خلاف آنسو گیس استعمال کی۔ مظاہرین میں سے بعض نے پولیس اہلکاروں پر مختلف اشیا اور آتش بازی کا سامان پھینکا۔ فرانس کے دوسرے بڑے شہر مارسیل میں مظاہرین نے مختصر وقت کیلئے سٹی ہال میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی۔ شہر کے میئر بنوآ پائیاں نے اعلان کیا کہ شہر میں پولیس کی اضافی نفری بھیج دی گئی ہے۔حکام کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اجازت کے بغیر نکالی گئی دو ریلیوں کو منتشر کرنے کیلئے کارروائی کی۔