یہ کب سے تم معلمِ اخلاق بن گئے
ہم جانتے ہیں خوب ہی اپنا بھلا بُرا
تلنگانہ میں ایس آئی آر کا عمل جاری ہے ۔ اسے شروع ہوئے 12 دن کا وقت ہوچکا ہے اور الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق رائے دہندگان میں گھر گھر جا کر فارمس تقسیم کرنے کا وقت ختم ہوچکا ہے ۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ عوام کی اکثریت اب بھی فارمس کیلئے پریشان ہے اور انہیں فارمس دستیاب نہیں ہوئے ہیں۔ ملک کی دیگر ریاستوں کی طرح تلنگانہ میں بھی بی ایل اوز کا کام کاج ٹھیک طرح سے نہیں چل رہا ہے ۔ بی ایل اوز انتہائی اہم ترین ذمہ داری کو انتہائی غیر ذمہ داری کے ساتھ انجام دے رہے ہیں ۔ ان کا رویہ انتہائی لاپرواہی والاہے ۔ الیکشن کمیشن اور ریاستی الیکشن انتظامیہ کی جانب سے یہ دعوے کئے گئے تھے کہ بی ایل اوز کو ایس آئی آر کے عمل کی تربیت فراہم کی گئی ہے اور انہیں تمام امور سے واقف کروادیا گیا ہے ۔ کئی بی ایل اوز ایسے ہیں جن کے طرز عمل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے نہ تو تربیت سنجیدگی سے حاصل کی ہے اور نہ ہی وہ فارمس کی تقسیم کا کام کسی سنجیدگی کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔ وہ انتہائی لاپرواہی اور من مانی انداز میں اپنا کام کر رہے ہیں اور انہیں عوام کو ہونے والی پریشانیوں کا کوئی احساس تک نہیںر ہ گیا ہے ۔ وہ گھر گھر جا کر فارم تقسیم کرنے کی ذمہ داری پوری کرنے کی بجائے چند گھروں تک پہونچ رہے ہیں اور پھر کہیں آرام سے کرسی ڈالے بیٹھے ہوئے ہیں اور اگر کوئی ووٹر اپنے فارمس کی تلاش میں ان تک پہونچے تو ان کے ساتھ بھی اطمینان بخش طریقہ سے کوئی بات چیت نہیں کی جا رہی ہے ۔ اس کے علاوہ جو فارمس تقسیم کئے گئے ہیں ان میں بھی 2002 کی فہرست کے مطابق اندراجات نہیں ہیں۔ ان اندراجات میں بھی کئی خامیاں اور غلطیاں پائی جاتی ہیں اور اس کے ذمہ دار الیکشن حکام ہیں۔ ان میں عوام کی کوئی غلطی نہیں ہے ۔ الیکشن کمیشن یا پھر دوسرے عہدیدار اس کی ذمہ داری تو قبول نہیں کریں گے اور اس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑسکتا ہے اور بھگتنا پڑ رہا ہے ۔ بی ایل اوز کا رویہ جہاں لاپرواہی والا ہے وہیں عوام میں بھی مناسب شعور بیداری کا کام نہیں کیا گیا تھا ۔
کئی ووٹرس ایسے ہیں جن کے فارمس ان کے گھر تک پہونچانے کی بجائے کہیں اور درج کرلئے گئے ہیں۔ اس کی عوام کو اطلاع تک نہیں ہے ۔ 2025 تک جن گھروں پر جو ووٹ تھے ان کے پتے بھی تبدیل کردئے گئے ہیں۔ ووٹرس اپنے ووٹ کا پتہ چلانے کیلئے بھٹک رہے ہیں۔ جو ووٹرس 2002 میں جس گھر میں مقیم تھے 2025 میں بھی ان کا پتہ وہی درج تھا تاہم اچانک ان کے پتے بدل گئے ہیں۔ کئی فارمس ایسے بھی آئے ہیں جن میں ووٹر کا نام کسی مرد کا ہے اور تصویر کسی خاتون کی ہے ۔ جہاں کسی خاتون کا نام درج ہے تو وہاں تصویر کسی مرد کی چسپاں کی گئی ہے ۔ یہ جو خامیاں ہیں ان کے نتیجہ میں عوام کو ایس آئی آر کا عمل مکمل کرنے میں مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جب پتہ درست کرنے کی بات آرہی ہے تو پھر انہیں اس کیلئے کچھ فارمس علیحدہ سے پر کرکے داخل کرنے پڑ رہے ہیں اور اس وقت تک ان کے فارمس میں درست اندراجات نہیں کئے جاسکتے اور فارمس کا ادخال مشکل کا شکار ہو رہا ہے ۔ اگر کوئی غلط پتے پر ہی اپنے فارمس کا اندراج کردے اور اسے داخل کردے تو پھر بعد میں پتہ کی تبدیلی کیلئے مشکلات کا پیش آنا لازمی بات دکھائی دے رہی ہے ۔ جو کام ایس آئی آر کا پوری ذمہ داری کے ساتھ کیا جانا چاہئے تھا اسے انتہائی لاپرواہی کے انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے اور اس کی رفتار بھی انتہائی سست ہے ۔ کام اطمینان بخش انداز میں نہیں ہو رہا ہے ۔
ابھی جبکہ اس عمل کی تکمیل کیلئے چند دن کا وقت باقی ہے حکام کو کم از کم اب اس معاملے میں مستعدی دکھانے کی ضرورت ہے ۔ عوام کیلئے کچھ راحت کے اقدامات کرنے چاہئیں اور جو مسائل اور تکالیف درپیش آ رہی ہیں انہیں دور کرنے کیلئے اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ جو لوگ ایس آئی آر کے عمل سے چھوٹ رہے ہیں ان کو بھی شامل کرنے پر توجہ مرکوز کی جانی چاہئے ۔عوام کی بے چینی کو دور کرتے ہوئے سارے عمل کو اطمینان بخش اور سہولت بخش بنانے کی شدید ضرورت محسوس کی جا رہی ہے ۔