ایس آئی آر کے دوران کئی حیران کن دعوے سامنے آئے

   

نئی دہلی، 12 فروری (یو این آئی) مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کی جاری سماعت کے دوران ایسے حیران کن اور عجیب و غریب دعوے سامنے آئے ہیں جنہیں دیکھ کر الیکشن کمیشن نے کئی معاملات میں قانونی کارروائی کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ برانگر اسمبلی حلقہ میں ایک ایسا کیس سامنے آیا جہاں ووٹر کی تاریخ پیدائش 6 مارچ 1993 درج تھی، جبکہ اس کے ثبوت میں پیش کیا گیا برتھ سرٹیفکیٹ دو دن پہلے یعنی 4 مارچ 1993 کو جاری کیا گیا تھا۔ اس واقعے نے سینئر افسران کو حیرت میں ڈال دیا اور اب اس معاملے میں قانونی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ بار بار تصدیق کے بعد کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ معلومات غلط تھیں اور متعلقہ الیکٹورل رجسٹریشن افسر (ای آر او) کو قانونی کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ حکام نے بتایا کہ فارم میں واضح طور پر درخواست دہندگان کو خبردار کیا گیا تھا کہ غلط معلومات دینے پر عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ کمیشن نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ برانگر کی حتمی ووٹر لسٹ سے اس ووٹر کا نام ہٹا دیا جائے گا۔ کچھ حیران کن انکشافات میٹیا بروج میں دستاویزات کی جانچ کے دوران سامنے آئے ۔ دستاویزات کے مطابق ایک خاتون کو دس بچوں کی ماں دکھایا گیا تھا، جبکہ پہلے دو بچوں کی پیدائش کے درمیان چار سال کا فرق درج تھا۔ کمیشن کے مطابق ایک خاتون نے ایسے کاغذات جمع کرائے جن میں ظاہر کیا گیا کہ اس نے محض 26 دنوں کے وقفے میں دو بیٹوں کو جنم دیا، ایک بچے کی پیدائش دسمبر 1990 کے آغاز میں اور دوسرے کی یکم جنوری 1991 کو دکھائی گئی۔ علاوہ ازیں، افسران نے نوٹ کیا کہ کئی بچوں کی تاریخ پیدائش مختلف سالوں میں صرف یکم جنوری دکھائی گئی ہے۔
دو بیٹیوں کی پیدائش میں ٹھیک ایک سال کا فرق دکھایا گیا اور دونوں کی تاریخ یکم جنوری درج تھی، جو کہ تاریخوں میں ہیرا پھیری کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔
اسی طرح ضلع مشرقی وردھمان کے میماری اسمبلی حلقہ میں ایک ووٹر نے اپنی تاریخ پیدائش کا خانہ خالی چھوڑ دیا تھا۔ کمیشن نے اسے جان بوجھ کر معلومات چھپانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے قانونی کارروائی کا حکم دیا ہے ۔
الیکشن کمیشن حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات بڑی تعداد میں سامنے آئے ہیں۔ ووٹروں نے غلط، ادھوری یا مشکوک معلومات جمع کرائی ہیں۔ اس سے نہ صرف تصدیقی عمل میں تاخیر ہو رہی ہے بلکہ ڈیوٹی پر موجود عملے کے لیے بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔