دستوری گنجائش اور قواعد کا جائزہ ماضی میں جاری کردہ جی اوز پر غور
حیدرآ باد ۔ 19ستمبر ( سیاست نیوز) ریاست میں قبائلی طبقہ کو آبادی کے تناسب کے ساتھ تحفظات میںتوسیع کے عمل کا آغاز ہوگیا ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے قبائل کو 10فیصد تحفظات دینے کا اعلان کیا جس کے بعد محکمہ قبائلی بہبود متحرک ہوگیا ہے ۔ ایس ٹی طبقات کیلئے ریاست میں نافذ 6فیصد تحفظات کو 10فیصد تک توسیع دینے کیلئے ماضی میں اختیار کردہ عمل اور قواعد کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جارہا ہے ۔ ایس سی و ایس ٹی طبقات کو آبادی کے تناسب سے تحفظات فراہم کرنے گنجائش کا تمام زاویوں سے جائزہ لیا جارہا ہے ۔ ذرائع سے پتہ چلا کہ ایک سال قبل محکمہ قبائل بہبود نے ایس ٹی تحفظات میں توسیع دینے احکام جاری کرنے کی تمام تیاریاں کرلی تھی تاہم تکنیکی وجوہات کے باعث احکام جاری نہیں ہوئے ۔ چیف منسٹر کے تازہ اعلان کرنے کے بعد احکامات کی اجرائی کیلئے تیاریو ں میں تیزی پیدا کردی گئی ہے ۔ متحدہ ریاست میں ایس سی ، ایس ٹی تحفظات آبادی کے تناسب کے لحاظ سے جی او کے ذریعہ اضافہ کیا گیا ۔ 1965ء کے دوران ریاست میں ایس سی ریزرویشن 14فیصد اور ایس ٹی ریزرویشن 4فیصد تھا ۔ 1981 میں آبادی کے تناسب سے ایس سی طبقات کی آبادی 14.87 فیصد اور ایس ٹی طبقات کی آبادی 5.93فیصد تک پہنچ گئی ۔ اس وقت تحفظات کے توسیع کے معاملہ میں الجھن پیدا ہوگئی تھی ۔ اس وقت کے پرنسپل سکریٹری محکمہ ایس سی بہبود ایس آر شنکرن نے خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے دستوری قواعد کے مطابق ایس سی ، ایس ٹی آبادی کے تناسب سے تحفظات میں توسیع دی ۔ 15 جولائی 1986ء کو جی او 167 جاری کرتے ہوئے ایس سی طبقہ کو 15فیصد اور ایس ٹی طبقات کو 6فیصد تحفظات فراہم کیا گیا جس پر آج تک عمل آوری ہورہی ہے ۔ 2011کی مردم شماری جامع خاندانی سروے کے مطابق ایس ٹی طبقات کی آبادی بڑھ کر 9.6 فیصد ہوگئی ہے ۔ جس کی وجہ سے ایس ٹی طبقات کے تحفظات میں توسیع کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ حکومت نے ماضی میں مسلم اور ایس ٹی تحفظات میں توسیع دینے کی اسمبلی میں قرادداد منظور کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو روآنہ کیا تھا لیکن مرکزی مرکزی حکومت نے اس کو زیرالتواء رکھا جارہا ہے ۔ ن