یونیورسٹی کو نوٹس کی اجرائی ، تقررات اور داخلوں میں ناانصافی کی شکایت
حیدرآباد۔یکم اپریل (سیاست نیوز) آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ترجمان ڈاکٹر شراون نے الزام عائد کیا کہ انگلش اینڈ فارن لینگویجس یونیورسٹی میں او بی سی تحفظات کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں سپریم کورٹ میںدرخواست دائر کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ داخلوں اور ملازمت میں او بی سی تحفظات کو نظر انداز کرنے پر سپریم کورٹ نے یونیورسٹی کو نوٹس جاری کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ او بی سی طبقات کو انصاف دلانے تک کانگریس پارٹی جدوجہد کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تمام سنٹرل یونیورسٹیز اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں او بی سی تحفظات پر عمل کیا جارہا ہے۔ انگلش اینڈ فارن لینگویجس یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف حیدرآباد دونوں او بی سی تحفظات کو فراموش کرچکے ہیں۔ اس معاملہ میں قومی بی سی کمیشن سے شکایت کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ دستور میں او بی سی طبقات کیلئے 27 فیصد تحفظات فراہم کئے گئے ہیں۔ لاک ڈاؤن کی مدت میں 58 فیکلٹی عہدوں پر تقررات کئے گئے جن میں تحفظات کو نظر انداز کردیا گیا ۔ قواعد کے مطابق انگلش اینڈ فارن لینگویجس یونیورسٹی میں 63 فیکلٹی ممبرس کا تعلق او بی سی طبقات سے ہونا چاہئے لیکن صرف 25 فیکلٹیز کا تعلق او بی سی سے ہے ۔ ڈاکٹر شراون کے مطابق سپریم کورٹ کے جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس سوریا کانت نے مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے یونیورسٹی کو نوٹس جاری کی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سپریم کورٹ کے او بی سی طبقات کو انصاف ملے گا۔ ر