حیدرآباد 16 اگست (سیاست نیوز) سابقہ کریم نگر ضلع میں واقع تاریخی ڈھانچے خاص طور پر قلعے قابل رحم حالت میں ہیں۔ ان کی مختلف ادوار کے بادشاہوں کی حفاظت کی ایک عظیم تاریخ ہے۔ اب ان قلعوں کے تحفظ کی کوئی فکر نہیں کررہا ہے۔ ایلگندل ہل قلعہ اس کی ایک مثال ہے کہ اس طرح کے یکے بعد دیگر ریاستی حکومتوں نے زیادہ تر تاریخی مقامات کو نظرانداز کیا ہے۔ یہ قلعہ ایلگندل گاؤں کے قریب دریائے منیر کو دیکھنے والی پہاڑیوں پر بنا ہوا ہے۔ کاکتیہ حکمرانوں کی طرف سے تعمیر کیا گیا یہ مسونوری سرداروں اور ریچارلا پدما نائکس حکمرانوں کا گڑھ رہا تھا۔ اس قلعہ نے اُس وقت تک اہم کردار ادا کیا جب تک کہ چھٹے نظام میر محبوب علی خان نے 1905ء میں ضلعی ہیڈکوارٹر کریم نگر منتقل نہیں کیا۔ قلعہ کے تقریباً تمام تعمیرات دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے خستہ حال ہیں۔ پہاڑیوں کے حدود اور دیگر دیواروں کو نقصان پہنچا ہے۔ قلعہ کے اندر اور اس کے ارد گرد گھاس پھوس کی وجہ سے سیاحوں کے لئے چند ڈھانچے اور کنویں دیکھنا مشکل ہورہا ہے۔ تاریخی ایلگندل کے ڈھانچے میں موجودہ نسل کی دلچسپی کو بحال کرنے کی کوشش میں محکمہ سیاحت نے 2017ء میں 4.25 کروڑ روپئے کی لاگت سے ایک ساؤنڈ اینڈ لائٹ سسٹم تیار کیا۔ یہ پچھلے کچھ سالوں سے کوئی شو نہیں رہا ہے۔ اس کے علاوہ قلعہ کی چوٹی پر واقع ایک مسجد کے دو میناروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ اگر فوری طور پر احتیاط نہ برتی گئی تو ایلگندل ہل قلعہ کے اندر اور اس کے آس پاس کی ہر چیز ایک دہائی کے اندر مکمل طور پر تباہ ہوجائے گی۔ محکمہ سیاحت قلعہ میں جانے والے ہر سیاح سے 20 روپئے وصول کررہا ہے لیکن پینے کے پانی اور بیت الخلاء جیسی بنیادی سہولیات نہیں ہیں۔ مقامی لوگوں نے مطالبہ کیاکہ دیواروں کی مرمت کی جائے اور ساتھ ہی روشنی کا انتظام کیا جائے اور سیاحوں کی حفاظت کے لئے قلعہ کے اوپر ریلنگ کی بھی تجویز ہے۔ مقامی لوگوں نے مطالبہ کیاکہ سیاحوں کے لئے قلعہ کے اندر تاریخ کو پیش کرنے کے لئے ایک انڈور تھیٹر کی تعمیر، قلعہ تک آر ٹی سی بس کی سہولت اور ایک ہرمیتا ہوٹل کی تعمیر کا مطالبہ کیا گیا۔ کریم نگر سے 31 کیلو میٹر دور ایک پہاڑی پر واقع مولنگور قلعہ ایک اور تاریخی یادگار ہے جسے موجودہ حکمرانوں نے نظرانداز کردیا ہے۔ 13 ویں صدی میں کاکتیہ خاندان کے پرتاپ ردرا کے چیف افسروں میں سے ایک ووراگری موگا راجو نے قلعہ ورنگل سے ایلگندل قلعہ تک سفر کرتے ہوئے کاکتیوں کے لئے ایک راہداری کے طور پر قلعہ تعمیر کیا تھا۔ گاؤں کے سرپنچ پوڈاری راجو نے ٹریکنگ کو فروغ دینے کے لئے ایک مناسب مقام کے طور پر قلعہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔ انھوں نے اپنی تجویز میں مولنگور قلعہ کے مرکزی دروازے تک سڑک تعمیر کرنے کو کہا تاکہ متعدد سیاح مولنگور سے قلعہ کا دورہ کرتے ہیں۔ رام گری قلعہ پداپلی ضلع میں بیگم پیٹ سے چھ کیلو میٹر دور واقع ہے۔ مورخین کے مطابق رام گری 4000 قبل مسیح میں قائم ہوا تھا۔ اس علاقہ میں ستواہنا خاندان کے بادشاہ گوتمی پئرستکارنی اور پلوموی کی حکومت تھی۔ مقامی رکن اسمبلی اور آئی ٹی اور صنعت کے وزیر ڈی سریدھر بابو کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کے ساتھ ریاستی حکومت نے چند ماہ قبل رام گری قلعہ کو ایک سیاحتی مقام کے طور پر ترقی دینے کے لئے 5 کروڑ روپئے کی منظوری دی تھی اور مرکزی حکومت سے اس قلعہ کو سیاحتی مرکز کے طور پر ترقی دینے کے لئے تعاون کی بھی اپیل کی گئی تھی۔(شٖ؍V)