جنگجوؤں نے دراندازی کی ناکام کوششیں کیں، دونوں ممالک نظم و ضبط پر کاربند۔ بریگیڈیئر تپس مشرا کا بیان
کیرن (ایل او سی): کپوارہ کے کیرن سیکٹر کے فخریاں پاس کی حفاظت پر مامور فوج کی 268 انفنٹری بٹالین کے بریگیڈئیر تپس کمار مشرا کا کہنا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سال گذشتہ کے ماہ فروری میں جنگ معاہدے پر عمل در آمد پراتفاق کے بعد ہمارے علاقے میں اس معاہدے کی خلاف ورزی کا کوئی بھی واقعہ پیش نہیں آیا۔انہوں نے کہا کہ اس دوران جنگجوؤں نے در اندازی کرنے کی کوششیں کیں لیکن ان کو ناکام بنا دیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ انٹلی جنس رپورٹس کے مطابق سر حد پار لانچنگ پیڈس پر جنگجو در اندازی کرنے کی تاک میں بیٹھے ہوئے ہیں۔بریگیڈئیر مشرا نے ان باتوں کا اظہار یہاں صحافیوں کے ایک گروپ کے ساتھ اپنی گفتگو کے دوران کیا۔انہوں نے کہاکہ گذشتہ پندرہ سولہ مہینوں سے ایل او سی پر جنگ بندی برابر قائم ہے اور ہمارے علاقے میں اس دوران خلاف ورزی کا کوئی بھی واقعہ پیش نہیں آیا۔ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک مکمل نظم و ضبط پر کار بند ہیں۔مشرا نے کہا کہ سر حد پر جنگ بندی ہو یا نہ ہو ہم سرحد کی حفاظت کے لئے ہمیشہ مستعد و چوکنا رہتے ہیں۔جنگجوؤں کی طرف سے در اندازی کرنے کی کوششوں کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ ایل او سی کی حفاظت کے لئے کثیر السطحی سیکورٹی تعینات رہتی ہے ۔فوجی افسر نے کہا کہ 268 انفنٹری بریگیڈ کیرن سیکٹر میں ایل او سی کے 55 کلو میٹروں کی نگرانی کرتی ہے اور در اندازی کی کوششوں کو روکنے کے لئے کثرالسطحی سکیورٹی تعینات ہے ۔انہوں نے کہاکہ کچھ تعیناتی جسمانی ہے جبکہ کچھ الیکٹرانک ہے ، جوانوں، مشینری اور نگرانی کا ایک بہترین مجموعہ ہے جس سے علاقے میں صفر در اندازی کو یقینی بنایا جا رہا ہے ۔ان کا کہنا تھاکہ در اندازی کی کچھ کوششیں ہوئیں لیکن ان کو نا کام بنا دیا گیا۔موصوف بریگیڈئیر نے کہا کہ ہمارے علاقے میں جنگجوؤں کی طرف سے در اندازی کی کوششیں ہوئیں لیکن ان کو ناکام بنا دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ انٹلی جنس رپورٹس کے مطابق سر حد پار لانچنگ پیڈس پر جنگجو موجود ہیں جو در اندازی کرنے کے تاک میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وادی میں چھوٹے بڑے ہتھیار پائے جاتے ہیں لیکن ہمارے علاقے سے اب تک کسی قسم کی کوئی در اندازی نہیں ہوئی۔فوجی پورٹرس کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر مشرا نے کہا کہ جب بھی کسی کو فوج میں بھرتی کیا جاتا ہے یا نوکری دی جاتی ہے تو اس کی باقاعدہ ویری فکیشن ہوتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سیکورٹی کے ساتھ کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ پورٹرس کو اگر کسی قسم کا کوئی نقصان پہنچتا ہے تو ان کے معاوضے کا بھی ایک سسٹم موجود ہے۔