ایم ایل سی الیکشن میں ملک دشمن پارٹی اور دیش بھکت پارٹی میں مقابلہ

   

باریک چاول کی سربراہی مرکزی اسکیم کا حصہ، مرکزی وزیر بنڈی سنجے کمار کا دعویٰ

حیدرآباد 6 اپریل (سیاست نیوز) مرکزی مملکتی وزیرداخلہ بنڈی سنجے کمار نے کہاکہ حیدرآباد مجالس مقامی ایم ایل سی نشست کے الیکشن میں ملک دشمن مجلس کا دیش بھکت بی جے پی پارٹی مقابلہ کررہی ہے۔ کریم نگر میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بنڈی سنجے کمار نے کہاکہ حیدرآباد ایم ایل سی نشست کے الیکشن میں کیا ملک دشمن پارٹی مجلس کو ووٹ دیں گے؟ یا پھر دیش بھکت بی جے پی کو، اِس کا فیصلہ بی آر ایس اور کانگریس کارپوریٹرس کو کرنا ہوگا۔ اُنھوں نے کہاکہ مجلس کو کامیاب بنانے کے لئے بی آر ایس اور کانگریس دونوں متحد ہوچکے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ حیدرآباد پر مجلس کے کنٹرول کو برقرار رکھنے کے لئے کانگریس اور بی آر ایس نے مقابلہ سے دوری اختیار کرلی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ 10 سالہ دور اقتدار میں بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کے مقدمات سے بچنے کے لئے بی آر ایس نے کانگریس سے مفاہمت کرلی ہے۔ انتخابات سے قبل کانگریس نے بی آر ایس قائدین کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا تھا لیکن تشکیل حکومت کے بعد آج تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اُنھوں نے کہاکہ فون ٹیاپنگ معاملہ میں اے ون ملزم کے ماسوا دیگر تمام ملزمین کو عدالت سے ضمانت حاصل ہوچکی ہے۔ بنڈی سنجے کمار نے دعویٰ کیاکہ تلنگانہ میں راشن کارڈ پر باریک چاول کی سربراہی دراصل مرکزی حکومت کی اسکیم کا نتیجہ ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ تلنگانہ میں کئی مرکزی اسکیمات کا نام بدل کر ریاستی اسکیم کے طور پر عمل کیا جارہا ہے۔ کانگریس عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں ناکام ہوچکی ہے۔ 6 ضمانتوں پر عمل آوری ابھی تک مکمل نہیں ہوئی۔ ریونت ریڈی کو ربر اسٹامپ چیف منسٹر قرار دیتے ہوئے بنڈی سنجے کمار نے کہاکہ ریاستی کابینہ میں توسیع کی ہائی کمان نے ابھی تک اجازت نہیں دی ہے۔ چیف منسٹر کو کانگریس ہائی کمان نے ربر اسٹامپ میں تبدیل کردیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اِس مسئلہ پر چیف منسٹر، صدر پردیش کانگریس اور دیگر قائدین کے بیانات جداگانہ ہیں۔ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کی اراضی کے مسئلہ پر وزارتی گروپ تشکیل دیا گیا لیکن وزارتی گروپ کی کارکردگی طے کرنے کی ذمہ داری میناکشی نٹراجن کو دی گئی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ تلنگانہ میں کمیشن کی بنیاد پر بلز جاری کئے جارہے ہیں۔1