ایکسائز پالیسی کیس : کجریوال کو سپریم کورٹ سے ضمانت

,

   

چیف منسٹر دہلی کو تہاڑ جیل سے رہا کردینے کا حکم ، عام آدمی پارٹی لیڈر کو بڑی راحت

نئی دہلی :سپریم کورٹ نے دہلی ایکسائز پالیسی گھوٹالے سے متعلق مرکزی تحقیقاتی ادارہ (سی بی آئی) کے معاملے میں تہاڑ جیل میں بند وزیر اعلی اروند کیجریوال کو بڑی راحت دیتے ہوئے مشروط ضمانت دے دی۔جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس اجول بھوئیاں کی بنچ نے مسٹر کجریوال کو ان کی عرضی پر یہ راحت دی۔ دونوں ججوں نے وزیر اعلیٰ کو 10 لاکھ روپے کے ذاتی مچلکے اور اتنی ہی رقم کے دو ضمانتی بانڈ پر رہا کرنے کا حکم دیا۔تاہم، دونوں ججوں نے سی بی آئی کی گرفتاری کو چیلنج کرنے والی ان کی درخواست پر الگ الگ فیصلے سنائے ۔ جسٹس کانت نے مسٹر کیجریوال کی سی بی آئی کی گرفتاری کو درست قرار دیا، جب کہ جسٹس بھوئیاں نے گرفتاری کو غیرضروری بتایا۔ جسٹس بھوئیاں نے عرضی گزار کے اس استدلال کو قبول کیا کہ منی لانڈرنگ کیس میں ان کی ضمانت کو ناکام بنانے کے لیے سی بی آئی نے ‘پہلے سے طے ‘ گرفتاری کی تھی۔مسٹر کیجریوال نے دہلی ایکسائز پالیسی گھپلے سے متعلق سی بی آئی کیس میں ضمانت کی مانگ اور اسی معاملے میں ان کی گرفتاری کو الگ الگ درخواستوں کے ذریعے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ دہلی ہائی کورٹ کی طرف سے ان کی درخواستوں کو مسترد کیے جانے کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔سپریم کورٹ نے 5 ستمبر کو ان کی درخواستوں پر سماعت مکمل کرنے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ کے سامنے ، عرضی گزار عام آدمی پارٹی کے سربراہ کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر ایڈوکیٹ ابھیشیک منو سنگھوی اور سی بی آئی کی طرف سے پیش ہونے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے گھنٹوں تک دلیل پیش کی تھی۔عدالت عظمیٰ نے 12 جولائی کو مسٹر کیجریوال کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے ذریعہ مبینہ ایکسائز پالیسی گھپلے سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں درج کیس میں عبوری ضمانت دی تھی۔ اگر جون میں سی بی آئی نے مقدمہ درج نہ کیا ہوتا تو وہ اسی وقت جیل سے رہا ہو جاتے ۔ دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کو آج سپریم کورٹ سے مشروط ضمانت ملنے کے بعد خصوصی عدالت نے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا۔ مسٹر کیجریوال دہلی ایکسائز پالیسی کے مبینہ گھوٹالے سے متعلق مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کے معاملے میں تہاڑ جیل میں بند ہیں ۔راکیش سیال کی خصوصی عدالت نے رہائی کا حکم اس وقت پاس کیا جب مسٹر کیجریوال کے وکیل نے ان کی جانب سے 10 لاکھ روپے کے ضمانتی بانڈ داخل کرنے کی پوری کارروائی مکمل کی۔عدالت نے وکیل کی اس درخواست کو بھی قبول کر لیا، جس میں انہوں نے مسٹر کیجریوال کی رہائی سے متعلق حکم نامہ فوری طور پر خصوصی میسنجر کے ذریعے تہاڑ جیل انتظامیہ کو بھیجنے کا مطالبہ کیا تھا۔

کجریوال کو دفتر چیف منسٹر جانے اور فائلوں پر دستخط کرنے سے روک دیاگیا
نئی دہلی : سپریم کورٹ نے جمعہ کو عام آدمی پارٹی (آپ) کے کنوینر اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال کو ضمانت دیتے ہوئے کئی شرائط عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے دفتر نہیں جا سکتے اور نہ ہی اس سے متعلق فائلوں پر دستخط کی اجازت نہیں ہوگی۔ جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس اجل بھویان کی ڈویژن بنچ نے مبینہ ایکسائز پالیسی گھوٹالے سے متعلق مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کیس میں مسٹر کجریوال کو اتفاق رائے سے ضمانت دے دی، لیکن الگ الگ فیصلے لکھے ۔ عدالت عظمیٰ نے مسٹر کجریوال پر کئی دیگر شرائط بھی عائد کیں، جن میں 10 لاکھ روپے کا ذاتی بانڈ اور اتنی ہی رقم کی دو ضمانتیں شامل ہیں۔

کجریوال کی ضمانت ، مرکزی حکومت کیلئے جھٹکہ : سدا رامیا
بنگلورو: کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے جمعہ کو کہا کہ سپریم کورٹ کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال کو ایکسائز پالیسی اسکام کیس میں ضمانت دینے کے حکم نے سچائی اور انصاف کے لیے لڑنے والے تمام لوگوں میں امید پیدا کر دی ہے۔ سدارامیا نے کہا کہ یہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی زیر قیادت نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) حکومت کے لیے بھی ایک جھٹکا ہے، جو اپنے ’’سیاسی انتقام‘‘ کے لیے آئینی اداروں کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال کو ایکسائز پالیسی ‘اسکام’ کے سلسلے میں سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کے ذریعہ درج کردہ بدعنوانی کے مقدمے میں ضمانت دے دی اور کہا کہ انہیں طویل عرصے تک جیل میں رکھنا غیر منصفانہ محرومی کے مترادف ہے۔ سدارامیا نے کہا کہ کجریوال کو ضمانت دینے اور انہیں جیل سے رہا کرنے کے حکم نے ملک کی عدلیہ پر ہمارے اعتماد کو مزید مضبوط کیا ہے۔