ابتدائی رجحانات میں ایمپلائز یونین کو برتری، حکمران کانگریس کی تلنگانہ مزدور یونین کو بڑا دھکہ
حیدرآباد ۔10 اکٹوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (TGSRTC) میں ایک دہائی (10 سال) کے طویل وقفے کے بعد منعقد ہونے والے یونین کے انتخابات پرامن طور پر مکمل ہوگئے ہیں۔ ریاست بھر کے آر ٹی سی ملازمین نے اپنے حق رائے دہی کا بھرپور استعمال کیا جس کے نتیجہ میں 98 فیصد ریکارڈ پولنگ درج ہوئی۔ انتخابی نتائج کے ابتدائی رجحانات اور ووٹوں کی گنتی کے مطابق AITUC سے وابستہ ایمپلائز یونین (EU) اتحاد نے میدان مارتے ہوئے فیصلہ کن اور شاندار کامیابی کی طرف قدم بڑھا دیا ہے۔ دوسری جانب ریاست کی برسراقتدار کانگریس پارٹی کی حمایت یافتہ تلنگانہ مزدور یونین کو آر ٹی سی ورکرس نے زبردست دھکہ دیا ہے جو اب ریاست کے سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بن چکا ہے۔ انتخابات کے حتمی مرحلے میں 11 ریجنس میں سے 8 ریجنس کے نتائج سامنے آچکے ہیں۔ ایمپلائز یونین اتحاد نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے 5 علاقوں (Regions) میں فتح حاصل کرکے اپنی برتری ثابت کردی ہے۔ تلنگانہ مزدور یونین (TMU) محض 3 علاقوں تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ دوردراز اور ریمورٹ ڈیوٹی پر گئے ہوئے عملے کیلئے 14 اور 15 اکٹوبر کو پوسٹل بیالٹ کے ذریعہ ووٹنگ کا اہتمام کیا جائے گا۔ اگرچہ کہ ان کی تعداد چند سینکڑوں میں ہے اور اس سے فائنل نتائج پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔ تاہم سرکاری طور پر 17 اکٹوبر 2026ء کو باضابطہ قطعی نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔ آر ٹی سی انتخابات میں توقع کے برعکس ناکامی پر حکمراں پارٹی کانگریس اور سرکاری حلقوں میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر اے ریونت ریڈی اور صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مہیش کمار گوڑ نے اس شکست کا گہرائی سے جائزہ لیا اور رپورٹس طلب کرلی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کانگریس کے چند قائدین نے خفیہ طور پر حریف یونین کا ساتھ دیا ہے۔ کھمم اور نلگنڈہ کو چھوڑ کر اکثر اضلاع میں متعلقہ انچارج وزراء اور ارکان اسمبلی نے انتخابات کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور انتخابی مہم سے لاپرواہی برتی۔ کانگریس قیادت آر ٹی سی یونین کے انتخابات کو یکطرفہ قرار دے رہی تھی لیکن اس وقت زبردست جھٹکا لگا جب ایک بڑے ریجنس کے 26 یونٹس میں سے محض 3 نشستوں پر ہی سمٹ کر رہ گئی جس کے بعد پارٹی میں ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔2