نئی دہلی: مرکز کے تین نئے زرعی قوانین پر بحران اور احتجاج جاری ہے۔ قوانین کی منسوخی پر بضدکسانوں نے اس معاملہ پر حکومت کے ساتھ آرپار کی لڑائی کا اعلان کیا ہے۔ بھارتیہ کسان یونین کے رہنما راکیش ٹکیت نے اتوار کو مرکزی حکومت کو متنبہ کیا کہ اگر کسانوں کو سرحدوں سے زبردستی ہٹانے کی کوشش کی گئی تو وہ ملک بھر کے سرکاری دفاتر کوغلہ منڈیوں میں تبدیل کر دیا جائے گا۔راکیش ٹکیت نے کہا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ انتظامیہ جے سی بی کی مدد سے یہاں نصب خیموں کو گرانے کی کوشش کر رہی ہے، اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو کسان پولیس اسٹیشن، ڈی ایم آفس میں اپنے خیمے لگائیں گے۔ٹکیت نے ہفتہ کو کہا تھا کہ للت پور کے ایک اور کسان رگھویر پٹیل نے کھاد کی عدم دستیابی کے باعث خودکشی کر لی ہے۔ مرکزی اور ریاستی حکومتیں کسانوں کو خودکشی کے کنویں میں دھکیل رہی ہیں۔ حکومت ہٹ دھرمی ترک کرے ورنہ ہماری مزاحمت تیز ہو جائے گی۔غازی پور بارڈر پر NH-9 (دہلی-میرٹھ ایکسپریس وے فلائی اوور) سے جہاں جمعے کی شام تک پولس نے بڑی تعداد میں بیری کیڈنگ، تاریں اور لوہے کی کیلیں ہٹا دی تھیں، وہیں دوسری طرف مظاہرین کی طرف سے بنائے گئے خیمے اور دیگر عارضی ڈھانچے وہیں پڑے رہے..