تاجرین 2 ہزار اور 5 سو کے نوٹوں کے حصول کے دوران احتیاط کریں
حیدرآباد۔16اپریل(سیاست نیوز) ماہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ کے دوران بازاروں میں پائی جاے والی گہماگہمی سے تاجرین کو چوکس و چوکنا رہنا چاہئے اور ان مصروف ترین ایام میں 2000اور 500کے کرنسی نوٹ کے حصول میں خصوصی احتیاط سے کام لینا چاہئے کیونکہ جعلی کرنسی نوٹ چلانے والے گینگ بازارو ںمیں گہماگہمی اور تاجرین کی مصروفیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جعلی کرنسی نوٹوں کو بازار میں پھیلاتے ہوئے شہریوں کو تاجرین کو دھوکہ دیتے ہیں۔ شہر حیدرآباد کے بازارو ںمیں دیکھی جانے والی گہماگہمی جعلی کرنسی نوٹوں کو بازار میں پھیلانے کا بہترین ذریعہ بنتی ہے اور اس طرح کے ماحول میں نہ صرف انسداد جرائم ایجنسیوںبلکہ ٹھیلہ بنڈی رانوں‘ فٹ پاتھ تاجرین کے علاوہ ان دکانات کے مالکین کو چوکس رہنا پڑتا ہے جہاں گاہکوں کا اژدہام ہوتا ہے اور تاجرین کی معمولی غفلت ان کے لئے بھاری نقصان کا سبب بن سکتی ہے اسی لئے کسی بھی بڑی کرنسی نوٹ کے حصول کے ساتھ ہی اس بات کی طمانیت حاصل کرلیں کہ انہوں نے جو کرنسی نوٹ وصول کی ہے وہ حقیقی ہے یا جعلی !پتھر گٹی‘ یاقوت پورہ ‘ مدینہ بلڈنگ‘ ٹولی چوکی ‘ نامپلی کے علاوہ کشن باغ ‘ حافظ بابا نگر‘ حسینی علم‘ خلوت‘بارکس اور دیگر علاقوں میں جہاں ماہ رمضان المبارک کے دوران خصوصی بازار لگائے جاتے ہیں ان بازاروں کو یہ مجرم نشانہ بناتے ہوئے جعلی کرنسی نوٹ پھیلانے کا کام انجام دیتے ہیں۔ جعلی کرنسی نوٹ پھیلانے والوں کی جانب سے معصوم بچوں کے علاوہ نادان خواتین کو استعمال کرنے کی شکایات میں اضافہ دیکھا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ بازاروں کے اطراف و اکناف ہی رہتے ہوئے لاکھوں روپئے کی جعلی کرنسی کو پھیلانے والے سرغنہ کسی سے راست رابطہ میں نہیں ہوتے لیکن بازار میں پائی جانے والی گہما گہمی سے واقف ہونے کے بعد ہی وہ ان جعلی کرنسی نوٹوں کو بازار میں پہنچانے کا عمل شروع کرتے ہیں۔ مصروف تجارتی ایام کے دوران معمولی کاروبار کرنے والے تاجرین کے علاوہ سرکردہ تجارتی اداروں کے ذمہ داروں کو بھی چوکسی اختیار کرنی چاہئے ۔ محکمہ پولیس اور انسداد جرائم ایجنسیوں کو بھی چاہئے کہ وہ اس سلسلہ میں پر ہجوم بازاروں میں مصروف تجارت تاجرین اور گاہکوں میں شعور اجاگر کرنے کے اقدامات کریں تاکہ بازاروں میں جعلی کرنسی کو پھیلنے سے روکنے کے علاوہ غریب تاجرین کو نقصان سے بچایا جاسکے ۔ حقیقی کرنسی نوٹوں کی جانچ کے علاوہ جعلی کرنسی بازار میں پھیلانے والوں کے طریقہ کار کے متعلق اگر عوام کے درمیان شعور اجاگر کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں ملک کی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کو بھی ناکام بنایا جاسکتا ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ عجلت اور ہنگامہ کے دوران کی جانے والی تجارت میں ہی جعلی کرنسی کے چلن کو یقینی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ م