باغیوں کی ترنمول سے وفاداری کی باتیں سراسر منافقت ‘ کلیان بنرجی

   

نئی دہلی، 09 جون (یو این آئی) ترنمول کانگریس قائدین کلیان بنرجی اور کیرتی آزاد نے باغی ارکان پارلیمنٹ کے ایک گروپ پر الزام لگایا کہ یہ ایم پیز یہاں بی جے پی قائدین سے ملاقاتیں کر رہے ہیں اور وہ حقیقت میں ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ کلیان بنرجی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ جن ایم پیز نے حال ہی میں مرکزی وزیر بھوپیندر یادو اور چیف منسٹر مغربی بنگال سے ملاقات کی تھی، انہوں نے سیاسی حدود کو پار کر لیا ہے ۔ وہ اب ترنمول کانگریس کے وفادار ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتے ۔ مسٹر بنرجی نے کہا کہ جو لوگ بھوپیندر یادو کی رہائش گاہ پر گئے اور چیف منسٹر سوویندو ادھیکاری سے ملاقات کیں، وہ بی جے پی بن چکے ہیں۔ آج ان کے لیڈر نریندر مودی ہیں۔ بی جے پی کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے ترنمول کانگریس میں بنے رہنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔ترنمول لیڈر نے دعویٰ کیا کہ پارٹی سربراہ ممتا بنرجی کی قیادت میں پاری متحد ہے اور پارٹی کو اندر سے کمزور کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہونگی۔ انہوں نے باغی ایم پیز پر پارٹی اور حامیوں کے مفادات پر ذاتی خواہشات کو رکھنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ترنمول کانگریس ایک منظم سیاسی جماعت ہے ۔ ممتا بنرجی ہماری لیڈر ہیں اور ابھشیک بنرجی ہمارے قومی جنرل سکریٹری ہیں۔ جو لوگ پارٹی کے خلاف سازش کر رہے ہیں، ان میں اتنی ہمت ہونی چاہیے کہ وہ استعفیٰ دیں اور پردے کے پیچھے سیاست کی بجائے کھل کر بی جے پی میں شامل ہوں ۔ مسٹر بنرجی نے کہا کہ ایم پیز کے ایک گروپ کی حرکتیں مغربی بنگال میں پارٹی کی سیاسی طاقت کو کم نہیں کر سکتیں۔ کچھ ایم پیز کی جانب سے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو پارٹی کے اندرونی معاملات پر خط سونپنے کا ذکر کرکے انہوں نے اس کے مقصد پر سوال اٹھایا اور الزام لگایا کہ اس کا مقصد صرف الجھن پیدا کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو کوئی شکایت ہے تو اس کیلئے پارٹی پلیٹ فارم موجود ہیں۔ بی جے پی کے پاس دوڑ کر جانا اور پھر ترنمول کے تئیں وفاداری کا دعویٰ کرنا منافقت ہے ۔ رکنِ پارلیمنٹ کیرتی آزاد نے بھی اس تنقید کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کا کیڈر اور زمینی قیادت ممتا بنرجی کے ساتھ کھڑی ہے ۔ ترنمول اندرونی اختلافات سے توجہ ہٹانے کی بجائے عوامی مسائل اور آئندہ انتخابی مقابلوں کی تیاریوں پر اپنی توجہ مرکوز رکھنا جاری رکھے گی۔ یہ تنقیدیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ریاست میں بی جے پی کی جیت کے بعد چیف منسٹر کی نئی حکومت کو آج ہی ایک مہینہ پورا ہوا ہے ۔ اس تبدیلی کے درمیان ٹی ایم سی پارلیمانی پارٹی میںعدم اطمینان کی قیاس آرائیاں تیز تھیں۔ دہلی میں باغی اراکینِ پارلیمنٹ اور بی جے پی رہنماؤں کی ملاقات کے بعد سیاسی توازن بدلنے کے الزامات کو ہوا ملی ہے اور اپوزیشن کے اتحاد پر نئے سوالات کھڑے ہو گئے ہیں ۔