ممبئی ۔ 22 جون (یو این آئی) شیوسینا (ادھو بالاصاحب ٹھاکرے ) کے چھ ارکانِ پارلیمنٹ کی ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیوسینا میں شمولیت کے بعد پارٹی سربراہ ادھو ٹھاکرے نے تنظیمی سطح پر جوابی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے 27 جون سے ریاست گیر دورے کا اعلان کیا ہے ۔ اس دورے کا مقصد پارٹی کارکنوں سے براہِ راست رابطہ قائم کرنا، تنظیم کو ازسرِنو مضبوط بنانا اور حالیہ سیاسی واقعہ کے بعد کارکنوں کا حوصلہ بلند کرنا بتایا جا رہا ہے ۔ پارٹی ذرائع کے مطابق ادھو ٹھاکرے نے اپنے دورے کے لیے انہی حلقوں کا انتخاب کیا ہے جن کی نمائندگی حال ہی میں باغی بننے والے ارکانِ پارلیمنٹ کرتے تھے ۔ سیاسی مبصرین اسے باغی رہنماؤں کے خلاف براہِ راست سیاسی چیلنج کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ دورے کا آغاز 27 جون کو یاوتمال سے ہوگا، جو باغی رکنِ پارلیمنٹ سنجے دیشمکھ کا حلقہ ہے ۔ اس موقع پر کارکنوں کا اجلاس اور عوامی ریلی منعقد کی جائے گی۔ اسی روز ادھو ٹھاکرے واشم میں بھی کارکنوں سے خطاب کریں گے ۔ جبکہ شام کو وہ ہنگولی پہنچیں گے ، جہاں باغی رکنِ پارلیمنٹ ناگیش پاٹل اشٹیکر کی بغاوت کے تناظر میں اہم سیاسی پیغام دینے کا امکان ہے ۔28 جون کو صبح پربھنی میں جلسہ عام منعقد کیا جائے گا۔ یہ حلقہ سنجے (بندو) جادھو کی نمائندگی کرتا ہے ، جنہوں نے حال ہی میں ادھو ٹھاکرے دھڑے سے علیحدگی اختیار کی ہے ۔ بعد ازاں دوپہر میں دھاراشیو (عثمان آباد) میں ریلی ہوگی، جہاں رکنِ پارلیمنٹ اوم راجے نمبالکر کے حالیہ سیاسی فیصلے کے بعد خاصی سیاسی سرگرمیاں جاری ہیں۔ دورے کے آخری مرحلے میں 29 جون کو شرڈی میں ایک بڑی عوامی ریلی منعقد کی جائے گی۔ یہ حلقہ باغی رکنِ پارلیمنٹ بھاؤ صاحب واکچورے سے منسلک ہے ، جنہوں نے حالیہ سیاسی تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ اس ریاست گیر مہم سے قبل ادھو ٹھاکرے نے آج ممبئی میں اپنے دھڑے کے اراکینِ اسمبلی کا خصوصی ”ٹی میٹنگ” اجلاس طلب کیا ہے ۔ اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال، باغی ارکانِ پارلیمنٹ کے معاملے اور آئندہ بلدیاتی انتخابات کی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیے جانے کی توقع ہے ۔ سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ باغی ارکان کے حلقوں سے دورے کا آغاز کر کے ادھو ٹھاکرے یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پارٹی کی عوامی بنیاد اور تنظیمی ڈھانچہ اب بھی مضبوط ہے ۔ اس دورے کے نتائج اور کارکنوں میں پیدا ہونے والے ردِعمل پر مہاراشٹر کی سیاسی فضا کی آئندہ سمت کافی حد تک منحصر رہے گی۔