باہمی تنازعات کی یکسوئی کیلئے عدالت کے بجائے افادہ مرکز سے رجوع کرنے کا مشورہ

   

شاہی مسجد باغ عام میں افادہ کمیونٹی میڈیئشن سنٹر کا افتتاح، ماہرین قانون کا خطاب
حیدرآباد، 24 مئی (راست) افادہ آرگنائزیشن اور تلنگانہ اسٹیٹ لیگل سرویسز اتھارٹی (ٹی ایس ایل ایس اے) کے اشتراک سے آج یہاں شاہی مسجد باغ عام، نامپلی میں بعد نمازِ مغرب ایک پروگرام بعنوان’’آپسی تنازعات کے حل میں ثالثی کا کردار‘‘منعقد ہوا۔ صدارت مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی امام وخطیب شاہی مسجد باغ نے کی۔ اس موقع پر افادہ کمیونٹی میڈیئشن سنٹر کا افتتاح عمل میں آیا۔ اس موقع پر ماہرین قانون نے باہمی تنازعات کی یکسوئی کیلئے عدالت کے بجائے افادہ مرکز سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ مہمان خصوصی جناب سی ایچ پنچک شری رکن سکریٹری (ٹی ایس ایل ایس اے)نے ثالثی کے طریقہ کار پر گفتگو کی اور اہم معلومات کو پیش کیا۔ معزز مہمان نے بتایا کہ دنیا میں جہاں بھی انسان بستے ہیں، وہاں اختلافات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ یہ اختلافات خاندان، کاروبار یا معاشرے کی سطح پر بھی ہو سکتے ہیں۔ ان اختلافات کو پرامن اور مؤثر طریقے سے حل کرنے کے لیے ”ثالثی” ایک بہترین ذریعہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ کمیونٹی میڈیئشن سنٹر کی قانونی حیثیت ہے اور کورٹ کی نظر میں اسے اہمیت دی گئی ہے۔ کمیونٹی میڈیئشن سنٹر کی پہلی بار کیرالہ میں شروعات ہوئی۔ اگر سماج کے بااثر، سنجیدہ اور سمجھدار افراد آگے بڑھ کر آپس میں مسئلہ کو حل کرسکتے ہیں۔ ہمارے سماج میں روز بہ روز آپسی تنازعات بڑھتے ہی جارہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ نظام آباد کے کمیونٹی میڈیئشن سنٹر میں 160 میں سے 120 اپلیکیشن کو ایک ماہ میں حل کیا گیا۔ نظام آباد، ورنگل، حیدرآباد، جن گاؤں اور دیگر جملہ نو اضلاع میں تربیت دی گئی ہے۔ کمیونٹی میڈیئشن سنٹر ہر ماہ اپنی رپورٹ تلنگانہ ہائی کورٹ کی لیگل اتھارٹی میں پیش کی جائے گی۔ اس موقع پر مولانا احسن بن محمد الحمومی نے کہا کہ اختلاف انسانی فطرت ہے لیکن اگر اختلاف انتشار کی شکل اختیار کر لے اور دشمنی میں بدل جائے تو یہ سماج کا ناسور بن جائے گا۔ ایسے میں ابتدائی مراحل میں ہی مسئلہ کو حل کیا جائے تو آپسی رشتہ داری میں بہتری آئے گی۔ سماج میں انصاف اور امن کی یہ ایک عمدہ کوشش ہے۔ وہیں اگر یہ کیس کورٹ میں چلا جائے تو اس میں برسوں کا وقت لگے گا اور ایسے کیسس یوں ہی برقرار رہتے ہیں۔ ایسے میں سماج کی طرف سے اور خود کمیونٹی کی جانب سے ثالثی کے ذریعے ان مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے اور ایسے سنٹرز اہم کردار ادا کریں گے۔ اب اسے لیگل سیل، تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے باضابطہ طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور سرٹیفیکیشن بھی ملاہے۔ افادہ میڈیئشن سنٹرایک نئے انداز میں اور بڑے پیمانے پر اسی کا تسلسل ہوگا۔ سنیر ایڈوکیٹ جناب اجمل احمد نے بھی خطاب کیا۔ جن کی کوششوں سے ہی افادہ میڈیئشن سنٹر کو تلنگانہ ہائی کورٹ کے لیگل سیل سے منسلک کرنے میں مدد ملی۔ جناب سید عمر جلیل، آئی اے ایس آفیسر (ریٹائرڈ) نے تلنگانہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس سجئے پال اور دیگر تمام معزز وکلاء کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے اب اس سنٹر کو قانونی حیثیت ست تسلیم کیا ہے۔ جناب محمد عبدالجاوید پاشاہ سینئر سیول حج وسکریٹری ڈسٹرکٹ لیگل سرویسز اتھارٹی (سیشنس ڈیویژن) حیدر آباد نے بھی پروگرام سے خطاب کیا۔ پروفیسر عبد المجید صدیقی نظامی کی دعا پر پروگرام کا اختتام ہوا۔