حیدرآباد : تلنگانہ میں تمام تر احتیاط کے باوجود کورونا مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ کے باوجود حکومت نے بتکماں تہوار کے موقع پر 9 اکٹوبر سے ریاست بھر میں ایک کروڑ ساڑیوں کی تقسیم کا پروگرام بنایا ہے جس پر مختلف گوشوں سے تنقیدیں کی جارہی ہیں۔ دوسری طرف عوام رمضان گفٹ کو بھی یاد کررہے ہیں۔ کورونا وباء کے دوران ایک کروڑ ساڑیوں کی تقسیم کے فیصلہ پر ٹی آر ایس میں بھی بے چینی پائی جاتی ہے۔ رمضان کے موقع کو نظرانداز کیا گیا اور بتکماں کے موقع پر ساڑیوں کی تقسیم کے پروگرام کو محض سیاسی فائدہ تصور کیا جارہا ہے۔ حکومت کی جانب سے 287 اقسام کی ایک کروڑ ساڑیاں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے لئے 317.81 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔ 17 اکٹوبر کو فیسٹیول کے لئے 9 اکٹوبر سے تقسیم کا عمل شروع ہوگا۔ کورونا وائرس اور اُس کے بعد لاک ڈاؤن سے معاشی سرگرمیاں ٹھپ ہوگئی ہیں اور عوام کی بڑی تعداد گزر بسر کے لئے مشکل حالات کا سامنا کررہی ہے۔ کورونا سے حفاظت کے لئے سماجی فاصلہ کو اہمیت دی جارہی ہے جبکہ حکومت نے گھر گھر پہونچ کر ساڑیوں کی تقسیم کا فیصلہ کیا ہے ۔گزشتہ 24 گھنٹوں میں ریاست میں کورونا کے 2072 نئے کیسیس درج کئے گئے ہیں جبکہ 9 اموات ہوئی ہیں جس سے عوام میں تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ حکومت کے اِس فیصلے پر سماج کے مختلف گوشوں سے تنقیدیں کی جارہی ہیں۔