بتکماں تہوار کے دوران دلتوں پر حملہ کیخلاف سخت احتجاج

   

گرام پنچایت سکریٹری کی معطلی کا مطالبہ، میدک کلکٹریٹ کے روبرو احتجاجی متاثرین سے سی پی ایم کا اظہار یگانگت
میدک 22 اکتوبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)ضلع میدک کے منوہرآباد منڈل کے موضع کونا? پلی (پی ٹی) میں بتکماں تہوار کے دوران دلتوں پر مبینہ حملے کے خلاف سی پی ایم ضلع کمیٹی نے سخت احتجاج کرتے ہوئے گاؤں کے سرپنچ منّے کلیان اور اس کے حامیوں کے خلاف ایس سی، ایس ٹی ST مظالم کی روک تھام کے قانون کے تحت مقدمہ درج کرکے فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس سلسلے میں سی پی ایم قائدین نے میدک ضلع کلکٹریٹ کے روبرو دھرنے میں شرکت کرتے ہوئے متاثرین سے اظہارِ یگانگت کیا۔سی پی ایم CPM ضلع سکریٹری کے نرسمّاں نے کہا کہ بتکماں تہوار کے دوران دلتوں پر حملہ کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔ ان کے مطابق گاؤں میں دلتوں کی جانب سے بتکماں تہوار کے موقع پر ڈھول بجانے کی روایت کئی نسلوں سے چلی آرہی ہے۔ اسی روایت کے مطابق ڈھول بجانے پر اعتراض کرنے کے بعد سرپنچ اور اس کے حامیوں نے مبینہ طور پر لاٹھیوں سے دلتوں پر حملہ کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ متاثرین کو ذات کے نام پر توہین آمیز الفاظ کہے گئے اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔کے نرسمّاں نے کہا کہ حملے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں گرام پنچایت کے صفائی ملازمین آندالہ بھکشپتی اور آندالہ ایلمّا بھی شامل ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ ڈیوٹی انجام دینے والے پنچایت ملازمین پر حملہ کرنا کہاں تک درست ہے۔ ان کا الزام تھا کہ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے اور متاثرین کو تحفظ دینے کے بجائے پولیس کا رویہ ملزمین کے حق میں دکھائی دے رہا ہے۔سی پی ایم ضلع سکریٹری نے مزید الزام لگایا کہ متاثرین کی شکایت کی بنیاد پر مقدمہ درج کرنے کے بجائے پولیس کی جانب سے ملزمین کے حق میں دوسری شکایت لکھوائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کو چار دن گزرنے کے باوجود ضلع کلکٹر کی جانب سے متاثرہ گاؤں کا دورہ نہ کرنے اور متاثرین کی خبرگیری نہ کرنے پر بھی تشویش ہے۔انہوں نے گرام پنچایت سکریٹری وینوگوپال ریڈی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حملے میں زخمی ہونے والے پنچایت ملازمین کی عیادت نہ کرنا اور مبینہ طور پر ملزمین کی حمایت کرنا قابل اعتراض ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملازمین کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی پر پنچایت سکریٹری کو معطل کیا جائے۔کے نرسمّاں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سرپنچ منّے کلیان اور ان کے حامیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرتے ہوئے فوری گرفتار کیا جائے، جبکہ سرپنچ اور پنچایت سکریٹری وینوگوپال ریڈی کو معطل کیا جائے۔ انہوں نے سوال کیا کہ دلتوں پر مبینہ حملے کے معاملے میں حکومت اب تک خاموش کیوں ہے اور مطالبہ کیا کہ متاثرین کو انصاف اور تحفظ فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔