گورنر نے بجٹ کو منظوری دے دی، اسمبلی اجلاس پر تعطل ختم، حکومت کے بلز کی منظوری ابھی باقی
حیدرآباد۔/31جنوری، ( سیاست نیوز) راج بھون اور پرگتی بھون میں تعطل کے اختتام کے بعد گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن نے 3 فروری سے اسمبلی اور کونسل کا اجلاس طلب کرتے ہوئے اعلامیہ جاری کردیا ہے۔ گورنر کی جانب سے دو علحدہ اعلامیے جاری کئے گئے جس کے تحت 3 فروری دوپہر 12:10 بجے اسمبلی کے چوتھے سیشن کا آٹھواں اجلاس اور کونسل کے چوتھے سیشن کا 18 واں اجلاس ہوگا۔ اعلامیہ کے مطابق 3 فروری کو اسمبلی ہال میں دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے گورنر خطاب کریں گی۔ گورنر کے خطاب کا وقت 12:10 بجے دن مقرر کیا گیا ہے۔ اجلاس کے پہلے دن بزنس اڈوائزری کمیٹی بجٹ کی پیشکشی اور اجلاس کے ایام کار طئے کرے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ 6 فروری کو وزیر فینانس ہریش راؤ ریاستی بجٹ برائے مالیاتی سال 2023-24 پیش کریں گے۔ اسی دوران گورنر ڈاکٹر سوندرا راجن نے ریاستی بجٹ کو منظوری دے دی ہے۔ بجٹ کی منظوری کے مسئلہ پر راج بھون اور حکومت کے درمیان تنازعہ پیدا ہوچکا تھا اور اس مسئلہ پر حکومت نے تلنگانہ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔ تاہم عدالت کی ایماء پر معاملہ کی یکسوئی ہوئی اور حکومت نے گورنر کے خطبہ سے بجٹ سیشن کے آغاز کا فیصلہ کیا۔ گورنر نے بجٹ کی منظوری کو روکتے ہوئے اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کی تیاریوں کے بارے میں حکومت سے سوال کیا تھا۔ سابقہ پروگرام کے مطابق گورنر کے خطبہ کے بغیر بجٹ سیشن کے آغاز کا فیصلہ تھا تاہم ہائی کورٹ کی مداخلت کے بعد گورنر کا خطبہ پہلے دن رکھنے سے اتفاق کیا گیا۔ معاملہ کی یکسوئی کے بعد گورنر نے ریاستی بجٹ کو منظوری دے دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گورنر کے خطبہ کی نقل بہت جلد راج بھون کو روانہ کردی جائے گی کیونکہ روایت کے مطابق حکومت کی جانب سے تیار کردہ تقریر گورنر پیش کرتی ہیں۔ وزیر امور مقننہ پرشانت ریڈی نے کل رات لیجسلیچر سکریٹریٹ کے عہدیداروں کے ہمراہ گورنر سے ملاقات کی اور انہیں بجٹ سیشن سے خطاب کی دعوت دی۔ بجٹ سیشن کے انعقاد پر اگرچہ تعطل ختم ہوا ہے لیکن حکومت کے اہم بلز کی گورنر کی جانب سے عدم منظوری پر تجسس برقرار ہے۔ کیا گورنر حکومت کے بلز کو منظوری دیں گی یا پھر کشیدہ صورتحال آئندہ بھی برقرار رہے گی اس پر سیاسی مبصرین کی نظریں ہیں۔ حکومت کے حلقوں میں امید کی جارہی ہے کہ گورنر کا حکومت کے بارے میں رویہ تبدیل ہوگا۔ گذشتہ دیڑھ برس میں یہ پہلا موقع ہے جب گورنر کے موقف کے آگے حکومت کو جھکنا پڑا۔ر