برازیل کے اسکولوں میں موبائل فون پر پابندی سے خوشگوار تبدیلی

   

برازیلیا : برازیل کے اسکولوں میں بڑی تبدیلی آئی ہے، طالب علم اب کلاس رومز میں پڑھائی پر بھی پوری توجہ دیتے ہیں اور وقفے کے دوران کھیل کے میدان بھی طلبہ سے گلزار رہتے ہیں۔ اس نمایاں تبدیلی کا سبب اسکولوں میں موبائل فون پر پابندی ہے۔ لاطینی امریکہ کے 200 ملین آبادی والے ملک برازیل میں اس تبدیلی کا آغاز سب سے بڑے شہر ریو ڈی جنیرو سے ہوا، جہاں ایک پائلٹ پروجیکٹ کے تحت اسکولوں میں طالب علموں کے موبائل فون استعمال کرنے پر پابندی لگا دی گئی۔ یہ تجربہ کافی کامیاب رہا اور بچوں کے اسکولوں میں قیام کے دوران تعلیمی اور کھیلوں سے متعلق سرگرمیوں پر اتنے مثبت اثرات پڑے کہ اس کا دائرہ پورے ملک تک وسیع کر دیا گیا۔ صدر لولا ڈا سلوا کی طرف سے دستخط کے بعد اس سال جنوری سے نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی ایک نیا قانون ملک بھر میں نافذ ہوا۔ اس کے تحت طالب علموں کا کلاس رومز میں اور وقفے کے دوران موبائل فون اپنے پاس رکھنا ممنوع ہے۔ قابل ذکر ہے کہ برازیل میں زیر استعمال موبائل فونز کی تعداد ملکی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ لیکن اس نئے قانون کے ساتھ برازیل اب ان ممالک میں سے ایک بن چکا ہے، جو کم از کم دوران تعلیم بچوں کے ہاتھوں سے موبائل فون لے لینے کے لیے نتیجہ خیز اقدامات کر چکے ہیں۔