بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
یورو پ کے ایک بڑے اور اہم ملک برطانیہ میں گذشتہ تقریبا ایک دہے سے عدم استحکام کی صورتحال ہے ۔ آج وزیر اعظم کی حیثیت سے کئیر اسٹارمر نے اپنے استعفی کا اعلان کردیا ۔ اسٹارمر پر کئی دن سے دباؤ بن رہا تھا کہ وہ اپنے عہدہ سے استعفی پیش کردیں۔ انہیں خود اپنی ہی پارٹی سے دباؤ کا سامنا تھا ۔ پارٹی میں یہ احساس تھا کہ جولائی 2024 میںپارٹی کی شاندار کامیابی اور اسٹارمر کے عہدہ سنبھالنے کے بعد پارٹی کی مقبولیت کا گراف گھٹنے لگا ہے ۔ پارٹی کو مسلسل کئی مسائل کا سامنا تھا اور اس کے نتیجہ میں پارٹی کی مقبولیت گھٹنے لگی تھی ۔ برطانیہ میں گذشتہ کئی دن سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی تھی ۔ تاہم چند دن قبل تک بھی اسٹارمر سخت گیر موقف اختیار کئے ہوئے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ وہ چیلنجس کاس امنا کریں گے ۔ ان کے دور حکومت میں کئی اسکینڈلس بھی سامنے آئے تھے اور ان کے ساتھی وزراء نے بھی اپنے عہدوں سے استعفی پیش کردیا تھا ۔ اب اسٹارمر کے استعفے کے بعد برطانیہ میں نئے وزیر اعظم کے انتخاب کی راہ ہموار ہوئی ہے ۔ گذشتہ ایک دہے کی صورتحال کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوجائے گا کہ تقریبا ایک دہے سے برطانیہ میں ایک طرح سے عدم استحکام کی صورتحال ہے اور اپنی معیاد پوری کئے بغیر استعفی پیش کرنے والے اسٹارمر برطانیہ کے چھٹے وزیر اعظم ہیں۔ گذشتہ ایک دہے میں چھ وزرائے اعظم کو اپنے عہدہ کی معیاد پوری کرنے کا موقع نہیں ملا ہے اور وہ قبل از وقت استعفے پیش کرتے رہے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں برطانیہ میں حالات کی بہتری کیلئے جس سیاسی استحکام کی ضرورت ہے وہ دکھائی نہیں دے رہی ہے ۔ کئیر اسٹارمر کے استعفی کا جہاں تک سوال ہے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کے پس پردہ جہاں سیاسی حالات بھی وجہ رہے ہیں وہیں داخلی طور پر عوامی حلقوں میں جو عدم اطمینان اور بے چینی کی کیفیت رہی ہے وہ بھی ذمہ دار ہے ۔ ملک کے حالات کو دیکھتے ہوئے خود اسٹارمر کی پارٹی میں بھی بے چینی پیدا ہونے لگی تھی اور ان کے ساتھی بھی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ عرصہ میں کچھ اہم ساتھیوں نے بھی استعفے پیش کردئے تھے ۔
اسٹارمر کا استعفی کوئی اچانک کیا گیا فیصلہ نہیں ہے اور نہ ہی حالات میں اچانک کوئی تبدیلی آئی ہے ۔ خود اسٹارمر کی لیبر پارٹی میں ہی کئی ماہ سے بے چینی کی کیفیت پیدا ہونے لگی تھی ۔ پارٹی کے ساتھی اور خود کئی وزراء بھی اسٹارمر کی قائدانہ صلاحیتوں سے مطمئن نہیں تھے اور انہیں بارہا متنبہ بھی کیا جا رہا تھا کہ وہ اپنے طرز کارکردگی میں تبدیلی لائیں اور حکمرانی میں بہتری پیدا کریں تاکہ عوامی اعتماد کو برقرار رکھا جاسکے تاہم وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ پارٹی میں کچھ ماہ قبل سے ہی اسٹارمر سے استعفے کے مطالبات بھی کئے جار ہے تھے اور کہا جا رہا تھا کہ پارٹی کی مقبولیت کے گراف کو گھٹنے سے بچانا ہے تو اسٹارمر کو استعفی پیش کرنا ہوگا ۔ یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ اسٹارمر کے 23 مہینوں کے دور میں پارٹی کی مقبولیت میں کافی کمی آئی ہے ۔ اسی وجہ سے پارٹی میں داخلی طور پر بے چینی میں اضافہ ہونے لگا تھا ۔ اس کے علاوہ کچھ نئی سیاسی جماعتوں کی وجہ سے بھی سیاسی بے چینی پیدا ہوگئی تھی ۔ اسٹارمر کی پارٹی سے تعلق رکھنے والے قائدین نے بھی اپنے عہدوں سے استعفی پیش کرتے ہوئے دوسری جماعتوں کا دامن تھام لیا تھا ۔ بحیثیت مجموعی جو صورتحال پیدا ہو رہی تھی وہ دباؤ کی صورتحال تھی اور اسٹارمر ابتدائی مراحل میں اٹل رہنے کے بعد اس دباؤ کے آگے ایسا لگتا ہے کہ بے بس ہوگئے اور انہوں نے آج اپنے استعفے کا اعلان کردیا ہے ۔ اس طرح ایک اور وزیر اعظم اپنی معیاد پوری کئے بغیر اپنے عہدہ سے سبکدوش ہوگئے ہیں یا سبکدوشی پر مجبور کردئے گئے ہیں۔
اس سے قبل لز ٹروس صرف دیڑھ ماہ وزیر اعظم رہ سکیں۔ رشی سونک نے 20 ماہ تک یہ ذمہ داری سنبھالی تھی ۔ بورس جانسن ان سے قبل وزیر اعظم رہے ۔ ٹریسا مے نے بھی چند ماہ یہ ذمہ داری سنبھالی ۔ اس سے قبل ڈیوڈ کیمرون کو بھی اپنے عہدہ سے استعفی پیش کرنا پڑا تھا ۔ کہا جا رہا ہے کہ اینڈی برنہم اسٹارمر کے جانشین ہوسکتے ہیں۔ نئے وزیر اعظم چاہے جو کوئی بھی ہوں اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ برطانیہ میں سیاسی استحکام کی ضرورت ہے اور موجودہ غیر یقینی صورتحال میں وزارت عظمی کی ذمہ داری سنبھالنے والے کسی نئے وزیر اعظم کیلئے بھی حالات کو توقعات کے مطابق بہتر بنانا آسان نہیں ہوسکتا ۔