بزدل پہلے بھی بزدل آج بھی

   

بھابانی شنکر نائیک
وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستانی حکومت کا امریکی سامراج اور اسرائیل میں صہیونی حکومت کے سامنے جھک جانا کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔ اسٹریٹجک شراکت داری اور آزاد تجارتی معاہدوں کے نام پر ہندوستانی حکومت نے اپنی جغرافیائی سیاسی آزادی اور معاشی خودمختاری کو امریکہ، برطانیہ، اسرائیل اور مغربی یورپ کے حوالے کر دیا ہے۔ مودی کی قیادت میں بی جے پی حکومت کی یہ شدید بزدلی ہندوتوا کی بزدلی کی تاریخ میں ایک نیا باب جوڑتی ہے۔ ہندو مہاسبھا اور آر ایس ایس کے ہندوتوا نظریہ سازوں نے برطانوی استعمار کے خلاف ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں حصہ نہیں لیا تھا۔ہندوتوا نظریہ سازجیسے کے بی ہیڈگوار اور ونائک دامودر ساورکر نوآبادیاتی نظام کے خلاف تحریکوں سے دور رہے اور ایسے طریقوں سے برطانوی حکومت کے ساتھ تعاون کیا جن سے آزادی کی قومی جدوجہد کمزور ہوئی۔ ساورکر کی طرف سے برطانوی حکمرانوں کو دی گئی رحم کی درخواستیں ہندوتوا سیاست کی بزدلی کی تاریخ میں اچھی طرح دستاویزی شکل میں موجود ہیں۔
آر ایس ایس، جو بی جے پی اور اس کی ہندوتوا سیاست و نظریہ کی بنیادی تنظیم ہے، نہ صرف اپنی قوم پرستانہ نسلی سوچ یورپی فاشزم اور نازی ازم سے اخذ کرتی ہے بلکہ اسے برطانوی نوآبادیاتی پالیسی “پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو” نے بھی شکل دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی نوآبادیاتی تاریخ نویسی نے ایک مسخ شدہ بیانیہ تشکیل دیا جس میں ایک “سنہری ہندو ماضی” کا تصور پیش کیا گیا اور مسلم حکمرانی کے دور کو تاریک زمانہ قرار دیا گیا۔یہ غیر تاریخی نوآبادیاتی فریم ورک، جسے الیگزینڈر ڈاؤ، ولیم جونز، جیمز مل اور ہنری ایلیٹ جیسے حکام اور منتظمین نے تیار کیا تھا، آج بھی ہندوتوا سیاست کے ستون کے طور پر کام کر رہا ہے۔ مودی کی قیادت میں موجودہ بی جے پی حکومت نے مشرقِ وسطیٰ، عرب دنیا، افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کے ممالک میں اپنے روایتی اتحادیوں کو چھوڑ دیا ہے۔
نریندر مودی کا حالیہ اسرائیل کا دورہ ایران پر حملے کی حمایت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس طرح کا نظریاتی اور اسٹریٹجک مؤقف ہندوستانی عوام کے خیالات اور موقف کے مطابق نہیں ہے، کیونکہ ہندوستانی عوام امن کے حامی ہیں اور تمام سامراجی جنگوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ ہندوستان کی تاریخ میں مسٹر مودی کی موجودہ حکومت سے زیادہ کمزور، غیر اخلاقی اور بے سمت حکومت پہلے کبھی نہیں رہی۔بزدلی ہندوتوا سیاست کی تاریخ میں رچی بسی ہوئی ہے۔ بغیر اصولوں کے دوسروں کے آلہ? کار بن کر لڑنا قوم کو کمزور کرتا ہے۔ ہندوتوا بریگیڈ کی مصلحت پسندی نے اسے پہلے برطانوی نوآبادیات کا آلۂ کار بنایا اور اب یہ امریکی سامراج اور صہیونی اسرائیلی حکومت کا آلہ? کار بن چکی ہے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہندوتوا نظریہ اور اس کی تنظیموں نے مسلسل ہندوستانی قومی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے اور ہندوستانی عوام کو کمزور کیا ہے۔ ہندوتوا نظریہ “وسودھیو کٹمبکم” (یعنی دنیا ایک خاندان ہے) جیسے ہندوستانی تہذیبی اقدار کی بات تو کرتا ہے، لیکن بار بار ان اصولوں کو ترک بھی کرتا رہا ہے۔
کوئی بھی ملک سامراجی اور صہیونی حکومتوں کا تابع بن کر عالمی سطح پر ترقی نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی خودمختاری کو مضبوطی سے منوا سکتا ہے۔سیاسی مصلحت، غنڈہ گردی کی چالیں، چالاکی اور غالب طاقتوں کے ساتھ تعاون ہندوتوا سیاست کو وقتی فائدہ تو دے سکتے ہیں، لیکن طویل مدت میں یہ ایک تہذیبی ریاست جیسے ہندوستان کے اخلاقی تشخص کو تباہ کر دیتے ہیں جو عالمی طاقت بننے کی خواہش رکھتی ہے۔ہندوتوا سیاست کی سامراج، نوآبادیات، صہیونیت اور سرمایہ داری کے ساتھ سمجھوتے اور تعاون کی پالیسی اس کی بزدلی کی تاریخ کا حصہ ہے۔ لہٰذا جنگ، سامراج، نوآبادیات، صہیونیت اور ہندوتوا سیاست کے خلاف اجتماعی جدوجہد دراصل امن، انسانی اقدار اور انسانی وقار کو دوبارہ حاصل کرنے کی جدوجہد ہے۔