بلدی انتخابات کے دوران ٹی آر ایس میں بغاوت کے اندیشے

   

کانگریس سے شامل ہونے والے قائدین کی سرگرمیوں سے بعض قائدین کو اپنی ہی پارٹی میں اجنبیت کا احساس
حیدرآباد۔9 ڈسمبر(سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرسمیتی میں موجود کانگریس قائدین کی سرگرمیوں سے ٹی آر ایس قائدین کی ناراضگی میں اضافہ ہوتا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی کے سینیئر قائدین کانگریس سے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرنے والے قائدین کی سرگرمیوں سے ناراض ہیں۔ پارٹی ذرائع کا کہناہے کہ انتخابات کے بعد پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والے کانگریسی ارکان اسمبلی اپنے رشتہ داروں اور اپنے قریبی رفقاء کو مجوزہ بلدی انتخابات میں صدرنشین اور مئیر کے طور پر پیش کرنے لگے ہیں اور پارٹی اعلی کمان کی جانب سے ان کی اس طرح کی سرگرمیوں پر کوئی قد غن نہ لگائے جانے کے سبب انہیں اپنی ہی پارٹی میں اجنبیت کا احساس ہونے لگا ہے۔ کانگریس سے علحدگی اختیار کرتے ہوئے تلنگانہ راشٹرسمیتی میں شمولیت اختیار کرنے والے قائدین کا استدلال ہے کہ وہ ان علاقوں سے کامیاب ہوکر آئے ہیں اور انہیں مکمل حق ہے کہ وہ اپنے کارکنوں اور حواریوں کو سیاسی عہدوں کے حصول کیلئے پیش کریں۔ ان قائدین کا کہنا ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت جمہوری اصولوں پر خدمات انجام دیتی ہے اور جمہوریت میں انہیں مکمل حق حاصل ہے کہ وہ اپنے حامیوں کو ٹکٹ دلوانے اور ان کی سیاسی ترقی کے ذریعہ سیاسی مستقبل کو تابناک بنانے کے سلسلہ میں اقدامات کریں۔ تلنگانہ راشٹرسمیتی میں موجود قائدین کا کہناہے کہ وہ برسوں سے پارٹی میں سرگرم ہیں اور ان کی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے پارٹی نے ان کو ٹکٹ دیئے تھے لیکن حالات کے سبب وہ شکست سے دو چارہوئے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے حامیوں یا رشتہ داروں کو بلدی انتخابات میں حصہ لینے سے بھی محروم کردیئے جائیں۔پارٹی کے سرکردہ قائدین کا کہناہے کہ کانگریس کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین کی بڑی تعداد میں تلنگانہ راشٹر سمیتی میں شمولیت کے بعد ان حالات کے پیدا ہونے کے خدشات ظاہر کئے گئے تھے اور اب جبکہ بلدی انتخابات کا جلد اعلان متوقع ہے تو کہا جا رہاہے کہ اندرون پارٹی قائدین میں موجود اختلافات اور دوسری جماعتوں سے ٹی آر ایس میں شامل ہونے والوں کے لئے ٹی آر ایس قائدین کو نظر انداز کئے جانے کی شکایات تیز ہوتی جا رہی ہیں۔