کانگریس اور بی جے پی میں ساز باز، بی آر ایس ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر کا الزام
حیدرآباد۔ 10 مئی (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ نے مرکز کی بی جے پی اور تلنگانہ کی کانگریس حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ مرکزی وزیر بنڈی سنجے کے فرزند کے معاملہ میں دونوں حکومتیں کارروائی کی بجائے نرم رویہ اختیار کررہی ہیں۔ پوسکو جیسے سنگین الزامات کے باوجود تلنگانہ حکومت نے کارروائی نہیں کی۔ کے ٹی آر نے بی جے پی کی بیٹی بچاؤ مہم کا حوالہ دیا اور وزیر اعظم نریندر مودی سے سوال کیا کہ یہ محض ایک نعرہ بن کر رہ گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بنڈی سنجے کو مرکزی کابینہ سے فوری برطرف کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر کے فرزند کے خلاف قانونی کارروائی میں تلنگانہ حکومت غیر معمولی تاخیر کررہی ہے۔ انہوں نے جاننا چاہا کہ پولیس نے کن دفعات کے تحت مرکزی وزیر کے افراد خاندان کے ساتھ خصوصی سلوک کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرزند کی جانب سے کم عمر لڑکی کو ہراسانی کے معاملہ میں بنڈی سنجے اخلاقی بنیادوں پر وزارت سے مستعفی ہو جانا چاہئے یا وزیر اعظم نریندر مودی انہیں وزارت سے برطرف کردیں۔ کے ٹی آر نے کانگریس حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاستی نظم و نسق متاثرہ لڑکی کو انصاف کی فراہمی میں ناکام ہوچکا ہے۔ برخلاف اس پولیس کی جانب سے متاثرہ خاندان کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ انہوں نے اس مسئلہ پر کانگریس قائد راہول گاندھی کی خاموشی پر سوال اٹھائے اور کہا کہ راہول گاندھی خواتین کے خلاف جرائم پر آواز اٹھاتے ہیں لیکن بنڈی سنجے کے فرزند کے معاملہ میں خاموش ہیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے میں غیر معمولی تاخیر کی۔ متاثرہ لڑکی جانب سے ثبوت پیش کئے جانے کے باوجود پولیس نے گرفتاری عمل میں نہیں لائی۔ انہوں نے جاننا چاہا کہ دیگر ریاستوں کی طرح راہول گاندھی کیا حیدرآباد کا دورہ کرتے ہوئے متاثرہ لڑکی سے اظہار ہمدردی کریں گے؟ انہوں نے کہا کہ جوابی شکایت کے تحت پولیس نے کمسن لڑکی کے خلاف ہنی ٹریپ کا مقدمہ درج کیا ہے۔ اس طرح متاثرہ خاندان کو مقدمہ سے دستبرداری کے لئے دباؤ بنایا جارہا ہے۔ کے ٹی آر نے بی جے پی اور کانگریس میں خفیہ مفاہمت کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ریاستی حکومت بی جے پی کے اشاروں پر کام کررہی ہے۔ 1؍F