پڑوسی ممالک کیساتھ تصادم کا کوئی ارادہ نہیں، خودمختاری کا دفاع اولین ذمہ داری :ایران
تہران : 16جولائی ( یو این آئی ) ایران نے امریکہ کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن نے ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کی دھمکی پر عمل کیا تو خطے کے دیگر ممالک کا انفراسٹرکچر بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ایرانی فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کا بھرپور اور سخت جواب دیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ نے اپنے منصوبے پر عمل کیا تو پورے خطے کا انفراسٹرکچر ایرانی مسلح افواج کی فولادی ضربوں تلے آ جائے گا ۔ ایرانی ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی قومی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی حملے کا جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہکے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیوں اور جوابی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ایران کا تازہ انتباہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر تنازعہ مزید بڑھا تو اس کے اثرات صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ، توانائی کا انفراسٹرکچر اور عالمی تجارتی راستے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ ، اس کا اپنے پڑوسی ممالک یا خطے کے اسلامی ممالک کے ساتھ تصادم کا کوئی ارادہ نہیں، تاہم اگر امریکہ نے ایران پر حملے جاری رکھے تو جنگ کا دائرہ نئے محاذوں تک پھیل سکتا ہے۔ ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایران ہمیشہ خطے کے ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات اور باہمی تعاون کے فروغ کا حامی رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی مسلح افواج کی اولین ذمہ داری ملک کی سلامتی، قومی مفادات اور خودمختاری کا دفاع ہے، اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔ترجمان نے واضح کیا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے خلاف کسی قسم کی محاذ آرائی نہیں چاہتا، بلکہ خطے میں استحکام اور تعاون کو ترجیح دیتا ہے۔دوسری جانب محمد اکرمینیا نے خبردار کیا کہ اگر امریکا کی جانب سے ایران پر فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو ایران اپنی جوابی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر امریکی جارحیت برقرار رہی تو جنگ نئے محاذوں تک پھیل جائے گی۔ ان کے مطابق ایران کی مسلح افواج کی تمام صلاحیتیں ابھی تک استعمال نہیں کی گئیں، اور اگر دشمن نے مزید حملے کیے تو ایران کا ردعمل حالات کے مطابق ہوگا، جو مخالفین کی توقعات سے بھی زیادہ سخت ہو سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایران ایک جانب اپنے پڑوسی ممالک کو یہ یقین دہانی کرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس کی پالیسی ان کے خلاف نہیں، جبکہ دوسری جانب امریکا کو سخت پیغام دے رہا ہے کہ مزید حملوں کی صورت میں تنازع مزید وسیع ہو سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کے باعث عالمی برادری کی نظریں مشرق وسطیٰ پر مرکوز ہیں، کیونکہ کسی بھی نئی فوجی کارروائی سے علاقائی سلامتی، عالمی معیشت اور تیل کی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔