بچوں اورنوجوان قارئین کیلئے قومیاردو کونسل کے ورکشاپ کا اختتام

   

نئی دہلی : قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی کے زیراہتمام بچوں اور نوجوان قارئین کے لیے اردو میں تخلیقی مواد تیار کرنے کے سلسلے میں سہ روزہ ورکشاپ آج اختتام پذیر ہوگیا۔ آج کے سیشن کا آغاز ذکیہ مشہدی کی کہانی ’ایک سچ مچ کے راجکمار‘ سے ہوا۔ اس نشست میں مشتاق احمد نوری نے ’گفتگو‘، نعیمہ جعفری پاشا نے ’حیرت انگیز کارنامہ‘، خورشید اکرم نے ’شرارتی ڈینس‘ اور غضنفر نے ’پھولی ہوئی لومڑی‘ کے عنوان سے کہانیاں پیش کیں جن پر موجود ماہرین اور اسکولی بچوں نے اپنے تاثرات کا اظہا رکیا۔ وقفۂ لنچ کے بعداختتامی سیشن ہوا۔ ورکشاپ کے شرکا نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا ورکشاپ پہلی بار منعقد ہوا ہے۔
جس میں چھوٹے بچوں سے لے کر نوّے سا ل کی عمر تک کے لوگ شامل ہوئے ۔ بچوں نے جس اعتماد اور بیباکی سے کہانیوں پر سوالات قائم کیے یقینا وہ دلچسپ اور حیران کن تھے ۔ اس سے قلمکاروں کو سمجھنے کا موقع ملے گا کہ آج کے بچوں کی نفسیات اور ان کے شعور و ادراک کی سطح کیا ہے ۔ اس موقعے پر مقررین نے مزید کہا کہ قومی اردو کونسل کا یہ خوشگوار تجربہ نئے تخلیق کاروں کی تربیت کے ساتھ بچوں کے لیے ایسا مواد تیار کرنے میں مددگار ہوگا جو دیگر زبانوں کے مقابل رکھا جاسکے ۔