بچوں کیلئے موزوں کورسیس کیلئے ڈی ایم آئی ٹی بے حد معاون

   

اُنگلیوں کے نشانات کے ٹسٹ سے طلبہ کی صلاحیتوں کا تعین
خداداد صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے والی سائنس سے موجودہ دور میں استفادہ ضروری

حیدرآباد۔ 31 جنوری (سیاست نیوز) آج کل والدین اپنے بچوں کو زیادہ تر ایسے کورسیس میں زبردستی داخلہ دلاتے ہیں، جن کے بارے میں بچوں میں کوئی خاص دلچسپی نہیں پائی جاتی، دراصل والدین یا سرپرست اپنے بچوں پر اپنی مرضی یہ کہتے ہوئے مسلط کردیتے ہیں کہ تمہارے چچازاد، خالد زاد بھائی بہن نے ایم بی بی ایس کیا ہے، انجینئرنگ کی ہے، بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹر ڈگری حاصل کرکے خوب کمائی کررہے ہیں، اس لئے تمہیں بھی میڈیسن کرنا چاہئے، تمہیں بھی انجینئرنگ میں داخلہ لینا چاہئے۔ غرض دوسروں کی دیکھا دیکھی، سرپرست حضرات اپنے بچوں کو زبردستی ان کورسیس میں داخلہ دلاتے ہیں جن کی طرف بچوں کا میلان نہیں ہوتا اور ان پیشوں میں وہ اپنی بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ نہیں کرپاتے حالانکہ اللہ عزوجل اپنے ہر بندہ کو بے پناہ صلاحیتوں سے نوازتے ہیں لیکن ہمیں اپنی مخفی صلاحیتوں کا اندازہ ہی نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے ہماری تمام تر صلاحیتیں اجاگر نہیں ہوپاتیں۔ ان صلاحیتوں کو ہم خداداد صلاحیت کہتے ہیں۔ اگرچہ ہر بچہ، ہر بچی غیرمعمولی خداداد صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں، لیکن ان صلاحیتوں کی پہچان میں ہم ناکام رہتے ہیں، لیکن جہاں مسائل ہوتے ہیں، وہیں قدرت نے ان کے حل کا انتظام بھی کیا ہوتا ہے چنانچہ کچھ ایسے طریقے ہیں جن کے سہارے نہ صرف بچوں میں پائی جانے والی خداداد صلاحیتوں کا پتہ لگایا جاسکتا ہے، انہیں اجاگر کیا جاسکتا ہے بلکہ ان بچوں کو کون سے کورسیس میں داخلے دلوائیں جائیں، کن پیشوں سے وابستہ کروایا جائے؟ وہ کس میدان میں کامیاب ہوسکتے ہیں؟ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ ان کیلئے سائنس، ریاضی، کامرس، میڈیسن، انجینئرنگ نفسیات، کھیل کود، مصوری وغیرہ وغیرہ میں کونسا شعبہ یا میدان موزوں رہے گا، ان کا تعین کیا جاسکتا ہے اور اس طریقہ کو DMIT (Dermatoglyphics Multiple Intelligence Test) کہا جاتا ہے۔ اس ٹسٹ کے ذریعہ نہ صرف آپ اپنے بچوں کیلئے موزوں کورسیس کا انتخاب کرسکتے ہیں بلکہ ان شعبوں میں اپنے بچوں کی کارکردگی کو صدفیصد بہتر بناسکتے ہیں۔ DMIT دراصل ذہن اور جلد (فنگر پرنٹس یا انگلیوں کے نشانات کے درمیان پائے جانے والے تعلق کو اجاگر کرتا ہے۔ اللہ عزوجل کی شان دیکھئے کہ آج دنیا کی آبادی 800 کروڑ سے تجاوز کرگئی ہے لیکن اگر انگلیوں کے نشانات یا Finger Prints کی بات کی جائے تو ان 800 کروڑ لوگوں کے فنگر پرنٹس ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوں گے۔ اس طرح ان کی ذہنی صلاحیتیں بھی بالکل مختلف ہوں گی۔ ان میں کسی قسم کی یکسانیت نہیں پائی جائے گی۔ DMIT بچوں کے دماغ اور فنگر پرنٹس کے درمیان پائے جانے والے تعلق کو اُجاگر کرنے والی سائنس ہے جو والدین اور بچوں دونوں کیلئے ممد و معاون ثابت ہوتی ہے۔ DMIT میں فنگر پرنٹس کے ذریعہ اس بات کا اندازہ لگایا جاتا ہے کہ آپ کا بچہ کس شعبہ کیلئے موزوں ہے اور کونسا شعبہ اس کیلئے موزوں ہے۔ ٹسٹ کرنے کے بعد ماہرین اس کی رپورٹ دیتے ہیں۔ اگر آپ اس رپورٹ کی بنیاد پر بچے کو تعلیم دلواتے ہیں تو پھر وہ اپنے متعلقہ شعبہ میں صدفیصد کامیاب رہ کر دولت، شہرت اور عزت سب کچھ پالیتا ہے۔ بہرحال آئندہ جاری کی جانے والی رپورٹس میں ہم آپ کو اس اہم ترین ٹسٹ کے بارے میں مزید تفصیلات سے واقف کروائیں گے۔
(سلسلہ جاری ہے)
اوما پرساد اگروال
9063076769, 9052403132