مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ہزاروں کارکنوں کی دو روزہ ملک گیر ہڑتال کے پہلے دن مغربی بنگال، کیرالہ اور تمل ناڈو جیسی ریاستوں میں پیر کو پبلک سیکٹر کے کئی بینکوں میں پبلک ٹرانسپورٹ خدمات ٹھپ ہوگئیں تاہم درجن بھر ٹریڈ یونینوں کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال نے صحت کی دیکھ بھال، بجلی اور ایندھن کی فراہمی جیسی ضروری خدمات کو متاثر نہیں کیا۔ سرکاری دفاتر سمیت تعلیمی اداروں میں اس کا اثر نہ ہونے کے برابر تھا۔کارکنوں نے کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے بھی کیے اور یونینوں نے دعویٰ کیا کہ جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش جیسے کوئلے کی کان کنی والے علاقوں میں اس تحریک کا اثر پڑا ہے ضروری خدمات بڑی حد تک متاثر نہیں ہوئیں لیکن کئی حصوں میں بینکنگ کے کام متاثر ہوئے اور کان کنی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں ہڑتال کا بجلی اور ایندھن کی فراہمی پر کوئی خاص اثر نہیں دیکھا گیا، لیکن ٹریڈ یونینوں نے دعویٰ کیا کہ جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش کے کویل کان کنی والے علاقوں میں مزدور اس کا حصہ بن گئے ہیں مغربی بنگال میں ہڑتال میں شامل لوگوں نے جگہ جگہ احتجاج کرنے کے علاوہ گاڑیوں اور ٹرینوں کی آمدورفت میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔ کیرالہ میں بھی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسوں کے علاوہ آٹورکشا اور پرائیویٹ بسیں نہیں چلیں، لیکن ضروری اشیاء کی فراہمی، اسپتال اور ایمبولینس خدمات ادھوری رہیں اس ہڑتال میں پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگس سیل، آر آئی این ایل اور این ایم ڈی سی کے ہزاروں ملازمین نے بھی حصہ لیا، جس کی وجہ سے ان کا کام کاج بری طرح متاثر ہوا اس ہڑتال سے بینکوں کا کام کاج بھی متاثر ہوا۔ تاہم، یہ اثر صرف جزوی طور پر دیکھا گیا کیونکہ بہت سے ملازمین کام پر نہیں آئے۔ بینک ملازمین کی یونینوں کا صرف ایک حصہ اس ہڑتال کی حمایت کر رہا ہے۔ اس کی وجہ سے پرائیویٹ سیکٹر کے بینکوں کا کام تقریباً غیر موثر ہو گیا تھا آل انڈیا بینک ایمپلائیز ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری سی ایچ وینکٹاچلم نے کہا کہ اس ہڑتال کا اثر مشرقی ہندوستان میں زیادہ نظر آیا اور پبلک سیکٹر کے بینکوں کی تمام شاخیں بند رہیں بی جے پی کی پانچ میں سے چار ریاستوں میں اسمبلی انتخابات جیتنے کے بعد اس طرح کی پہلی ہڑتال ہے، جس میں حکومتی پالیسیوں کی مخالفت کی جا رہی ہے۔