بیت المقدس کی بے حرمتی کے خلاف یوم القدس

   

مسجد اختری گولکنڈہ میں پرامن احتجاج ، مولانا متین علی شاہ قادری کا خطاب
حیدرآباد ۔ 29 ۔ اپریل : ( راست ) : مسجد اختری دلاور شاہ نگر قلعہ گولکنڈہ میں بعد نماز جمعہ نے مسجد اقصٰی کے لیے پرامن احتجاج کیا -اس موقع پر مولانا قاری سید متین علی شاہ قادری نے کہا کہ ‘رسول ﷺنے فرمایا ‘ من أصبح لا یہتم بأمور المسلمین فلیس منہم، ومن سمع رجلا ینادی یا للمسلمین فلم یجبہ فلیس بمسلم، جو ایسا ہو جائے کہ مسلمانوں کے امور سے غافل ہو تو وہ مسلمان نہیں ہے اور جو کسی فریادی کی فریاد سنے ‘اے مسلمانو!’ لیکن اس کی فریاد رسی نہ کرے وہ مسلمان نہیں ہے۔’ 74 برس سے صیہونیوں کا قبلہ اول بیت المقدس پر قبضہ اور مظلوم فلسطینیوں پر ظلم و ستم اور قتل و غارت گری کسی ملک و ملت یا فرقہ و مذہب کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق عالم انسانیت سے عموماً اور عالم اسلام سے خصوصاً ہے۔ سنہ 1948 سے صیہونی اس مقدس سرزمین پر قابض ہیں اور مسلسل اس کی حرمت پامال کر رہے ہیں جو انبیاء و مرسلین اور اولیاء کرام کی سرزمین ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘اس بیت المقدس کی بے حرمتی ہو رہی ہے جو عالم اسلام کا قبلہ اول ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ جرم ایک بار ہوا بلکہ آئے دن ہوتا رہتا ہے۔ اب تک ہزاروں فلسطینی جاں بحق ہو گئے، نہ جانے کتنے سہاگ اجڑ گئے، نہ جانے کتنی گودیاں خالی ہو گئیں۔ ہر دن فلسطینی نہ جانے کتنی لاشیں اٹھاتے ہیں لیکن ہر جانب ایسا سناٹا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ مولانا سید متین علی شاہ قادری نے مزید کہا کہ ‘اگر مغرب کے کسی ملک میں چند انسانوں بلکہ جانوروں پر ظلم ہو جائے تو عالمی میڈیا مظلوم کی حمایت اور ظالم کی مخالفت میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی لیکن دوسری جانب فلسطین کی سرزمین روزانہ بے گناہوں کے خون سے لال ہو رہی ہے اس پر عالمی میڈیا کا مجرمانہ سکوت جہاں حیرت انگیز ہے وہیں قابل مذمت بھی۔ انہوں نے کہا کہ ‘عالم اسلام کا سکوت اس سے زیادہ حیرت انگیز اور قابل افسوس ہے کہ ‘جس نبی نے مسلمان کو مسلمان کا بھائی بتایا۔ جس نے عالم اسلام کو جسد واحد ’’ایک جسم‘‘ سے تشبیہ دی کہ اگر کسی ایک عضو کو تکلیف ہو تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے آج اسی نبیؐ کے نام نہاد کلمہ گو اور اسی نبیؐ کے نام پر حکومت کرنے والے نام نہاد اسلام کے ٹھیکہ دار قبلہ اول بیت المقدس کی بے حرمتی اور مسلمانان فلسطین کے مظلومیت پر خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔