ممبئی : بمبئی ہائی کورٹ نے جہیز ہراسانی سے متعلق ایک کیس میں اہم تبصرے کرتے ہوئے کہا کہ بیوی کو گھر کا کام کرنے کے لیے کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کے ساتھ نوکرانی جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی عورت شادی کے بعد گھر کا کام نہیں کرنا چاہتی،تو اسے چاہیے کہ وہ اس کے بارے میں پہلے سے اطلاع دے تو شادی پر نظر ثانی کا موقع ملتا ہے۔ بمبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد ڈیویژن بنچ نے یہ تبصرے ایک خاتون کی طرف سے اس کے شوہر، ساس اور نند کے خلاف دائر کی گئی عرضی کو خارج کرتے ہوئے کیے، جو اس کی شادی کے ایک ماہ بعد سے اس کے ساتھ نوکرانی جیسا سلوک کر رہے تھے۔ عدالت نے تبصرہ کیا کہ اگر کسی شادی شدہ خاتون کو گھر کا کام کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو یہ یقینی طور پر خاندان کی خاطر ہوتا ہے اور یہ کہنا درست نہیں ہے کہ عورت کو نوکرانی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ خاتون نے پہلی شادی پر بھی ایسی ہی شکایتیں کی تھیں۔ عدالت نے خاتون کی جانب سے دائر درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملزم پر لگائے گئے الزامات جھوٹے ہیں۔