بیگم پیٹ کی قیمتی سرکاری اراضی کے تحفظ کیلئے حکومت ہائی کورٹ سے رجوع

   


جسٹس شرت نے حکم التواء ختم کردیا اور جوں کا توں موقف رکھنے کی ہدایت دی
حیدرآباد ۔23 ۔ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے ہائی کورٹ میں شکایت کی ہے کہ بیگم پیٹ میں چیف منسٹر کی سرکاری قیامگاہ کے قریب بعض غیر مجاز قابضین اور غیر سماجی عناصر قیمتی سرکاری اراضی پر دعویداری پیش کر رہے ہیں۔ 3500 مربع گز یہ اراضی گرین لینڈس گیسٹ ہاؤس کی ہے جس کی مالیت کئی کروڑ روپئے ہے۔ حکومت نے عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ کی جانب سے ستمبر 2022 ء میں جاری کردہ عبوری احکامات کا غلط استعمال کرتے ہوئے غیر مجاز قابضین اراضی پر دعویداری پیش کر رہے ہیں۔ اراضی کے مختلف سروے نمبرات ظاہر کرتے ہوئے اسے خانگی ثابت کیا جارہا ہے ۔ حکومت کے ریکارڈ کے مطابق سروے نمبر 215 کے تحت یہ اراضی موجود ہے جبکہ قابضین اسے سروے نمبر 214/1 کے تحت ظاہر کر رہے ہیں۔ جسٹس کے شرت نے حکومت کی درخواست کی سماعت کے بعد سابق میں جاری کردہ حکم التواء کو برخواست کردیا اور فریقین کو ہدایت دی کہ اراضی پر جوں کا توں موقف برقرار رکھا جائے۔ ایڈوکیٹ جنرل بی ایس پرساد نے حکومت کا موقف پیش کرتے ہوئے اراضی کے تحفظ کے لئے حکم التواء برخواست کرنے کی درخواست کی۔ عدالت نے دو خانگی دعویداروں کی درخواست پر یہ احکامات جاری کئے۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت سے دو ہفتہ کا وقت مانگا تاکہ ریکارڈ پیش کیا جائے۔ ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ سروے نمبر 214/1 کے تحت کوئی مخلوعہ اراضی نہیں ہے اور غیر مجاز قابضین متصل اراضی پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ جسٹس شرت نے کہاکہ وہ سابق میں درخواست گزار نے اراضی پر برقی کنکشن حاصل کرنے کی کوشش کی تھی اور محکمہ برقی نے انکار کردیا تھا۔ر