کراس ووٹنگ کی حوصلہ افزائی کا الزام، ریاستی وزیر پونم پربھاکر کا شدید ردعمل
حیدرآباد 6 اپریل (سیاست نیوز) وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر نے الزام عائد کیاکہ بی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان معاہدہ کے تحت حیدرآباد مجالس مقامی ایم ایل سی نشست پر بی جے پی نے مقابلہ کا فیصلہ کیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ کانگریس کو نشانہ بنانے کے مقصد سے دونوں پارٹیوں نے خفیہ مفاہمت کرلی ہے۔ عددی طاقت کے اعتبار سے بی جے پی کی کامیابی کے امکانات موہوم ہیں تاہم بی آر ایس کی تائید پر اُس نے امیدوار میدان میں اُتارا ہے۔ پونم پربھاکر نے کہاکہ کانگریس ایم ایل سی الیکشن میں حصہ نہیں لے رہی ہے اور رائے دہی میں بی جے پی کی تائید کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اُنھوں نے سوال کیاکہ طاقت کے بغیر بی جے پی کا مقابلہ کرنا باعث حیرت ہے۔ دراصل بی آر ایس کی تائید سے بی جے پی کامیابی حاصل کرنا چاہتی ہے۔ پونم پربھاکر نے کہاکہ حیدرآباد لوک باڈی ایم ایل سی الیکشن میں جملہ رائے دہندے 112 ہیں جن میں بی جے پی کے صرف 27 ووٹر ہیں۔ بی آر ایس 23، کانگریس 13 اور مجلس کے 49 ووٹ ہیں۔ کانگریس نے اپنی طاقت کا اندازہ کرتے ہوئے مقابلہ سے دوری اختیار کرلی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ بظاہر بی آر ایس نے اپنا امیدوار کھڑا نہیں کیا لیکن اِس بات کا قوی امکان ہے کہ بی آر ایس ارکان بی جے پی کے حق میں ووٹ دیں گے۔ اسمبلی اور پھر لوک سبھا انتخابات میں بی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان مفاہمت بے نقاب ہوچکی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ خفیہ مفاہمت کے تحت دونوں پارٹیوں نے کراس ووٹنگ کی حوصلہ افزائی کا منصوبہ بنایا ہے۔ پونم پربھاکر نے واضح کیاکہ کانگریس کی جانب سے بی جے پی امیدوار کی تائید کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اُنھوں نے کہاکہ سابق میں جس طرح انحراف کی بی آر ایس نے حوصلہ افزائی کی تھی، اِس مرتبہ مجلس بلدیہ حیدرآباد میں بی جے پی وہی تجربہ کرنا چاہتی ہے۔1