بی آر ایس کیلئے انتخابات سخت آزمائش ، 9 وزراء کا موقف کمزور

   

45 حلقوں پر کانگریس کا طاقتور موقف، 60 حلقوں پر اپوزیشن کانگریس اور برسر اقتدار بی آر ایس کے درمیان کانٹے کی ٹکر
خواتین تحفظات بل منظور ہونے پر بی آر ایس کو امیدواروں کے ناموں پر نظرثانی کرنی پڑیگی۔ مزید اختلافات کے اندیشے
حیدرآباد۔/7 ستمبر، ( سیاست نیوز) جیسے جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں ریاست میں کانگریس کیلئے ماحول سازگار اور حکمران بی آر ایس کیلئے مشکل بنتا جارہا ہے۔ اس وقت ریاست کے 9 وزراء سخت آزمائش سے گذررہے ہیں۔ 35 تا 45 اسمبلی حلقوں میں کانگریس کا موقف انتہائی مستحکم ہوگیا اور 50 اسمبلی حلقوں میں کانگریس اور بی آر ایس کے درمیان کانٹے کی ٹکر ہے۔ پرشانت کشور کی ٹیم نے بی آر ایس قیادت کو ایک رپورٹ پیش کی ہے جس میں پارٹی کی نازک صورتحال سے واقف کراتے ہوئے چند تجاویز و مشورے دیئے ہیں۔ 115 امیدواروں کے اعلان کے بعد بی آر ایس میں اچانک اختلافات اور گروپ بندیاں منظرعام پر آگئی ہیں ۔ 15 دن گذرنے کے باوجود ناراض قائدین سمجھنے تیار نہیں ہیں اور بغاوت کرکے بی آر ایس قیادت کو بلیک میل کررہے ہیں۔ دوسری جانب کرناٹک میں کامیابی کے بعد کانگریس تلنگانہ میں کافی سوچ سمجھ کر ’ ٹارگٹ تلنگانہ ‘ منصوبہ کے تحت کام کررہی ہے۔ کانگریس کیڈر میں جوش و خروش بھرنے 16اور 17 ستمبر کو حیدرآباد میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کا بھی اجلاس طلب کیا جارہا ہے۔ 17 ستمبر کو ایک جلسہ عام کے ذریعہ ریاست میں انتخابی مہم کا عملاً آغاز کرنے کی تمام تیاریاں کی جارہی ہیں۔ یہ اجلاس کانگریس کیلئے بہت زیادہ کارآمد ثابت ہونے کے امکانات ہیں کیونکہ کانگریس نے سونیا گاندھی کے ذریعہ تلنگانہ کے عوام کو پیغام دلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مرتبہ کانگریس عوام سے جو انتخابی وعدے کررہی ہے وہ کافی متاثر کن ہیں اور عوام کے دلوں میں اُترجانے کی کانگریس قائدین توقع کررہے ہیں۔ ریاست میں اصل مقابلہ بی آر ایس اور کانگریس کے درمیان ہوگیا ہے۔ اقتدار کا دعویٰ پیش کرنے والی بی جے پی اس سیاسی جنگ میں تیسرے نمبر پر پہنچ گئی ہے۔ بی جے پی سے مقابلہ کرنے والے خواہشمند قائدین سے درخواستیں طلب کی جارہی ہیں تاحال پارٹی کو 900 سے زائد درخواستیں وصول ہوچکی ہیں مگر سینئر قائدین نے ابھی تک درخواستیں داخل نہیں کی ہیں جس پر بی جے پی قومی قائد پرکاش جاوڈیکر نے بھی ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ جو درخواستیں داخل کریں گے انہیں ہی امیدوار بنایا جائے گا۔ پارٹی میں دوسرے و تیسرے گریڈ کے قائدین بڑے پیمانے پر درخواستیں داخل کر رہے ہیں۔ سب سے پہلے میدان مارلینے کی کوشش چیف منسٹر کے سی آر کیلئے اس مرتبہ مہنگی ثابت ہورہی ہے۔ کبھی ان کے اشارے کے منتظر قائدین آج ان کے فیصلہ کی کھل کر مخالفت کررہے ہیں جس سے تیسری مرتبہ اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کرنے والی بی آر ایس قیادت پریشان و فکر مند ہوگئی ہے۔ ایک طرف پارٹی کو جہاں عوامی ناراضگی کا سامنا ہے وہیں دوسری طرف پارٹی کے قائدین قیادت کو آنکھیں دکھاتے ہوئے انہیں اپنے فیصلہ پر نظرثانی کرنے پر زور دے رہے ہیں یا پارٹی تبدیل کرنے یا پھر پارٹی امیدوار کو شکست دینے میں اہم رول ادا کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ جس کے بعد بی آر ایس قیادت ناراض قائدین کو سمجھانے منانے کیلئے چند امیدواروں کو تبدیل کرنے کا اشارہ دے رہی ہے اور ساتھ ہی پارلیمنٹ میں خواتین تحفظات بل منظور ہوجاتا ہے تو چیف منسٹر کو اپنے امیدواروں کے ناموں پر نظر ثانی کرنا لازمی ہوجائے گا۔ خواتین کو نمائندگی دینے کے مقصد سے پارٹی امیدواروں کو تبدیل کیا جاتا ہے تو تب اور بھی ناراضگیاں پیدا ہوجانے کے اندیشوں کو ہرگز نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس طرح بی آر ایس کو 20 تا30 امیدواروں کو تبدیل کرنا پڑے گا۔ ریاست کی کابینہ میں 18 وزراء ہیں جن میں 3 وزراء قانون ساز کونسل کی نمائندگی کرتے ہیں باقی 15 وزراء میں 9 ایسے وزراء ہیں جن کا عوام میں امیج اچھا نہیں ہے۔ پرشانت کشور ٹیم کی رپورٹ پر پرگتی بھون میں زبردست بحث و مباحث شروع ہوگئے ہیں۔ پارٹی کی نازک صورتحال اور وزراء کے کمزور موقف کا چیف منسٹر کے سی آر سنجیدگی سے جائزہ لے رہے ہیں اور ساتھ ہی کانگریس امیدواروں کے اعلان کا انتظار کررہے ہیں ۔ کہا جارہا ہے کہ کانگریس امیدواروں کو دیکھتے ہوئے پارٹی امیدواروں کو تبدیل کرنے پر غور کیا جائے گا۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ و ریاستی وزیر کے ٹی آر بیرونی ممالک کے دورے سے شہر واپس آچکے ہیں ۔ پارٹی ٹکٹ سے محروم اور ناراض قائدین کے ٹی آر سے ملاقات کا بے چینی سے انتظار کررہے ہیں۔ اگر ملاقات میں کے ٹی آر کی جانب سے کوئی تیقن ملتا ہے تو وہ پارٹی میں برقرار رہیں گے یا بی آر ایس سے مستعفی ہوکر کانگریس یا بی جے پی میں جانے پر غور کررہے ہیں۔ن