کانگریس کی کامیابی عارضی، ضمانتوں پر عمل آوری سے بچنے بہانوں کی تلاش، اچم پیٹ میں کارکنوں سے خطاب
حیدرآباد۔/25 فروری، ( سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ پارٹی کی کار سرویسنگ کیلئے گئی ہے اور دوبارہ وہ واپس آئے گی۔ ناگر کرنول لوک سبھا حلقہ کے تحت اچم پیٹ میں پارٹی کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے دعویٰ کیا کہ تلنگانہ میں بی آر ایس کا اقتدار واپس آئے گا اور کانگریس کی کامیابی محض اتفاقی اور عارضی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضمانتوں پر عمل آوری سے کانگریس حکومت بچنے کی کوشش کررہی ہے اور حکومت کے خلاف ناراضگی کا آغاز ہوچکا ہے۔ تلنگانہ میں کئی چیف منسٹر آئیں گے اور جائیں گے لیکن کے سی آر وہ واحد لیڈر ہیں جنہوں نے تلنگانہ ریاست حاصل کی ہے اور کے سی آر نے دس برسوں میں ریاست کے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس برسراقتدار آتے ہی دریائے کرشنا کے آبپاشی پراجکٹس کو کرشنا ریور مینجمنٹ بورڈ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ نلگنڈہ میں کے سی آر کے جلسہ عام کے بعد ریونت ریڈی حکومت نے اسمبلی میں قرارداد منظور کی۔ کانگریس کی کامیابی کو محض اتفاق قرار دیتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ اگر کانگریس الیکشن سے قبل ریونت ریڈی کو چیف منسٹر کے طور پر اعلان کرتی تو کانگریس کو30 نشستیں بھی نہ ملتی۔ خود کانگریس قائدین کو کامیابی کا یقین نہیں ہے اور یہ محض ایک لہر کی کامیابی ہے۔ اسمبلی اجلاس کے دوران کانگریس ارکان اسمبلی نے قسم کھاکر مجھ سے کہا کہ انہیں محبوب نگر میں پانچ تا چھ نشستوں پر کامیابی کی امید تھی۔ 12 نشستوں پر کامیابی کا خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ اسمبلی چناؤ سے قبل کئی وعدے کئے گئے لیکن اب عمل آوری کے سلسلہ میں بہانے تلاش کررہے ہیں۔ 2 لاکھ روزگار اور 2 لاکھ روپئے قرض معافی کا وعدہ آج تک پورا نہیں ہوا۔ الیکشن سے قبل سب کو فری کا نعرہ لگایا گیا لیکن اقتدار ملتے ہی چند افراد کو فری کی بات کی جارہی ہے۔ کے سی آر حکومت پر خزانہ خالی کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے بہانے تلاش کئے جارہے ہیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ کسانوں کو رعیتو بندھو کی امدادی رقم روک دی گئی۔ کانگریس برسراقتدار آتے ہی برقی اور آبرسانی کا بحران شروع ہوچکا ہے۔ گرما سے قبل ہی برقی کٹوتی شروع کردی گئی اور کئی علاقوں میں پانی کی سربراہی میں خلل پڑا ہے۔ کے ٹی آر نے قومی سطح پر مودی کی لہر کو بوگس قرار دیا اور کہا کہ گلی سے دہلی تک تلنگانہ کے مفادات کا تحفظ کرنے والی واحد پارٹی بی آر ایس ہے۔ انہوں نے کہا کہ پالمور رنگاریڈی پراجکٹ کو دس برسوں تک مودی نے قومی درجہ نہیں دیا۔1