متعدد نشستوں پر کامیابی کا نشانہ، جلسے اور پروگرامس کی منصوبہ بندی
حیدرآباد۔12۔مارچ(سیاست نیوز) ملک بھر میں جن حلقہ جات لوک سبھا میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو پارلیمانی انتخابات 2019 میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا ان میں 160 حلقہ جات پارلیمان کی نشاندہی کرتے ہوئے پارٹی نے ان پر سخت محنت کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور سلسلہ میں پارٹی کی جانب سے سہ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جن میں ترون چگھ ‘ سنیل بنسل اور وند تاوڑے شامل ہیں ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے 2024 میں ان 160میں 90 تا110 نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے کا نشانہ تیار کیا ہے اور ان نشستوں پر کامیابی کے حصول کے لئے پارٹی نے جو منصوبہ تیار کیا ہے اس کے مطابق ان حلقہ جات پارلیمان میں وزیر اعظم کے دوروں اور جلسہ عام کے انعقاد کے علاوہ مرکزی وزراء کے دوروں کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔علاوہ ازیں ان پارلیمانی حلقوں میں قریبی 3تا4پارلیمانی حلقوں کے مشترکہ پروگرامس منعقد کرتے ہوئے مہم چلانے اور جگہ جگہ ٹیکنالوجی کے استعمال اور بڑے اسکرین اور وزیر اعظم کے 3D جلسوں کے انعقاد کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی نے 2024 عام انتخابات کے دوران 400 نشستوں پر کامیابی کا نشانہ مقرر کیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ پارٹی کے چیف منصوبہ ساز و مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے اس سلسلہ میں پارٹی کے سرکردہ قائدین اور حکمت عملی تیار کرنے والوں کے ساتھ مسلسل مذاکرات کے بعد یہ منصوبہ تیار کیا ہے جس کے تحت 160نشستوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان نشستوں پر امیدواروں کے موقف اور پارٹی کی کارکردگی و مسائل کے علاوہ مستقبل میں عوام کے درمیان پہنچ کر انہیں پارٹی سے قریب کرنے کی حکمت عملی تیار کی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ پارٹی نے ’’مشن ساؤتھ‘‘ میں تلنگانہ ‘ کیرالہ اور تمل ناڈو کو شامل کیا ہے جبکہ آندھرا پردیش اور کرناٹک کے متعلق پارٹی نے کسی بھی منصوبہ کا اعلان نہیں کیا ہے ۔ بی جے پی قائدین کا کہناہے کہ گذشتہ عام انتخابات میں پارٹی نے جو کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا اس کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی اور امیت شاہ کی شخصیت کااہم رول رہا اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے پارٹی نے آئندہ عام انتخابات کے دوران بھی دونوں قائدین کی خدمات کو حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا جار ہاہے کہ عام انتخابات سے قبل امیت شاہ بھی ان 160پارلیمانی حلقوں میں انتخابی مہم چلانے کے ساتھ ساتھ ان علاقوں کے قائدین سے ملاقات کرتے ہوئے پارٹی کے موقف اور حکمت عملی سے واقفیت حاصل کریں گے۔سنیل بنسل ‘ ترون چگھ دونوں ہی صلاح کار تلنگانہ کے بھی انچارج کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں اور سنیل بنسل بی جے پی کو روایات کے خلاف اترپردیش میں مسلسل دو معیاد کے دوران اقتدار دلوانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔اسی لئے بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے 160 پارلیمانی نشستوں کی ذمہ داری کے لئے بھی ان قائدین کا انتخاب کیا ہے۔ذرائع کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی ان 160پارلیمانی حلقوں میں کامیابی کے حصول کے لئے پارٹی کارکنوں اور قائدین کے علاوہ دیگر ہندو تو اتنظیموں کی مدد بھی حاصل کرے گی اور کامیابی کے حصول کے لئے جو منصوبہ تیار کیا گیا ہے اسے مخفی رکھنے کی کوشش کی جار ہی ہے تاکہ اس کا انکشاف نہ ہو بلکہ پارٹی کے عوام کے درمیان پہنچنے کے بعد ہی ان نشستوں کی تفصیلات منظرعام پر آئیں گی تاکہ اپوزیشن جماعتیں تیار نہ رہیں۔م